سوتے وقت منہ سے پانی کیوں بہتاہے

سوتے وقت منہ سے پانی کیوں بہتاہے

منہ سے رال بہنا؟سوتے ہوئے منہ سے رال بہناسوتے ہوئے اکثر افراد کے منہ سے رال ٹپکنا شروع ہو جاتی ہے جسے باعث شرمندگی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم سائنسدانوں نے ایسے افراد کو خوشخبری دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے افراد کو اب پریشان ہونے کی ضرورت نہیں بلکہ یہ آپ کیلئے خوش آئند ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جو لوگ پرسکون نیند سوتے ہیں اور ان کے خواب مثبت نوعیت کے ہوتے ہیں ان کے منہ سے نیند کے دوران رال بہنا شروع ہو جاتی ہے۔نیند کے دوران رال بہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نیند کا ابتدائی مرحلہ جسے ’’ریپڈ آئی موومنٹ مرحلہ‘‘ کہتے ہیں جو کہ بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہوا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ آپ کی نیند میں کوئی خرابی نہیں ہے۔آپ کا جسم اور دماغ نیند سے بھرپور استفادہ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق جن لوگوں کی رال نیند کے دوران کبھی نہیں ٹپکتی انہیں نیند سے متعلق اکثر شکایات رہتی ہیں۔ ان لوگوں کا شمار ایسے لوگوں میں ہوتا ہے جو یا تو پوری طرح سے نیند نہیں حاصل کر رہے یا پھر یہ پرسکون نیند حاصل کرنے سے قاصر ہیں.علاوہ ازیں سوتے ہوئے رال کیوں ٹپکتی ہے اور یہ کن بڑی بیماریوں کی علامت ہوسکتی ہے؟ رال ٹپکنے سے مراد وہ فاضل تھوک ہے جو کہ منہ میں بھر جاتی ہے اور بچپن میں دن بھر میں منہ سے ٹپکتی ہے اور اکثر بڑے ہونے پر بھی سوتے ہوئے جسم س خود بخود اتنی مقدار میں خارج ہوتی ہے جس سے منہ اور تکیہ گندا ہو جاتا ہے-مگر اس حوالے سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ مستقل طور پر منہ میں رال کا ہونا درحقیقت کئی بڑی بیماریوں کا سبب ہوتا ہے آج ہم آپ کو اسی حوالے سے آگاہ کریں گے- رال کیوں ٹپکتی ہے؟جب ہم سوتے ہیں تو ہمارے چہرے کے اعصاب آرام دہ حالت میں آجاتے ہیں
جس کے سبب تھوک نگلنے والے اعصاب بھی اپنا کام روک دیتے ہیں-جس کی وجہ سے منہ کے اندر بننے والی اضافی تھوک منہ میں جمع ہوتی ہے اور زيادہ ہونے کے باعث منہ سے باہر بھی نکلنے لگتی ہے جس کی وجہ سے منہ اور تکیہ دونوں گندے ہوجاتے ہیں-اس کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں سے ایک سبب سانس لینے کے راستے میں کوئی رکاوٹ ہو سکتی ہے-اس کے علاوہ اعصاب کی کمزوری بھی اس کا باعث ہو سکتی ہے- منہ کے زخم،اس کے علاوہ فالج وغیرہ کی بیماری بھی اس کا سبب ہو سکتی ہے جس کے سبب بننے والی تھوک گلے میں اترنے کے بجائے منہ سے باہر گرنے لگتی ہے- رال کے ٹپکنے کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟رال کو ٹپکنے سے روکنے کے لیۓ ہمیں ان تمام اسباب پر غور کرنا ہو گا جو کہ اس کا سبب ہوتے ہیں اور پھر ان کے تدارک کے ذریعے رال کے ٹپکنے کو روکا جا سکتا ہے-ناک کا بند ہوناناک کے بند ہونے کے بہت سارے اسباب ہوسکتے ہیں مگر ناک کے بند ہونے کے سبب انسان منہ سے سانس لینا پڑتا ہے-جس کے سبب تھوک نگلنے کا عمل متاثر ہوتا ہے اس لیے ایسے اقدامات کرنے چاہیے ہیں جن سے بند ناک کو کھولا جا سکتا ہے-اس کے لیے سونے سے قبل نیم گرم پانی سے سر دھونے سے بھی بند ناک کھل سکتا ہے-اس کے علاوہ وکس وغیرہ کا استعمال اور ناک کے اندر تیل ڈال کر بھی اس کو کھولا جا سکتا ہے-سونے کا انداسونے کا انداز بھی رال ٹپکنے کا ایک اہم سبب ہو سکتا ہے جو لوگ الٹا ہو کر پیٹ کے بل سوتے ہیں یا پھر بالکل سیدھا لیٹتے ہیں دونوں صورتوں میں رال منہ میں جمع ہو جاتا ہے اور منہ سے باہر نکلتا ہے- اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ کروٹ پر سونا چاہیے اور کسی اونچے تکیے پر سر رکھنا چاہیے اس سے رال کا بننا اور منہ سے باہر نکلنا کم کیا جا سکتا ہے-بے خوابیاگر کسی انسان کو رات میں بار بار نیند کے ٹوٹنے کی شکایت ہو اس کی وجہ خراٹے وغیرہ بھی ہو سکتے ہیں-جس کا مطلب یہ ہے کہ سانس کے راستے میں اور گلے میں کسی قسم کی خرابی ہے اس صورتحال میں جب نیند بار بار خراب ہو رہی ہو تو تھوک بننے کا عمل تیز ہو جاتا ہے جو کہ رال کے بننے کا سبب بنتا ہے-اضافی وزنجن افراد کا وزن زیادہ ہوتا ہے ان لوگوں کو بھی رال کے بہنے کی شکایت ہوتی ہے ایسے افراد کو ڈاکٹر وزن کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ اضافی چربی کے سبب سانس کی نالی پر پڑنے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے اور رال کے منہ سے نکلنے کے سلسلے کو روکا جا سکے-ادویات کا استعمالبعض اوقات کچھ اینٹی بائوٹک ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے استعمال کے سبب منہ میں بننے والی تھوک کی مقدار میں اضافہ ہو جاتا ہے-جس کے سبب رال ٹپکنے لگتی ہے ان ادویات کا استعمال ختم کر دینے سے بھی رال کے ٹپکنے کے عمل کو روکا جا سکتا ہے-پوسٹ شئیرنگ معلومات و مفاد عامہ کے لئے۔مجرب نسخے اور معلوماتی مضامین کے لیے پیج کو فالو کریں۔پوسٹ اور پیج کو ضرور لائک
کریں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *