”تھائی رائیڈکا مریض کیا ہے“

”تھائی رائیڈکا مریض کیا ہے“

دنیا بھر میں تقریباً 20 ملین لوگ تھائی رائیڈ کے مرض میں مبتلا ہیں۔ جن میں سے 60 فیصد لوگ اس بات سے بے خبر ہوتے ہیں کہ ان کو تھائی رائیڈ کا مسئلہ درپیش ہے۔تھائی رائیڈز گلے کے بالکل بیچ میں موجود ہوتے ہیں۔ جسم کے کئی اعضاء تھائی رائیڈز کے ماتحت ہوتے ہیں، اگر ان میں کوئی پریشانی درپیش ہوجائے تو اس سے آپ کا پورا جسم متاثر ہوجاتا ہے۔تھائی رائیڈز کی پریشانی کے باعث مزاج میں تبدیلی، سستی اور وزن میں کمی جیسی علامات نمودار ہونے لگتی ہیں۔اس کے علاوہ تھائی رائیڈز ہونےکی کیا کیا علامات ہیں، وہ درج ذیل ہیں:تھائی رائیڈز سے متاثرہ افراد کے بال تیزی سے گرنا شروع ہوجاتے ہیں اوران کے بال کمزور ہونے لگتے ہیں۔جب آپ کا وزن بے وجہ بڑھنا اور گھٹنا شروع ہوجائے تو اس کا مطلب آپ کے تھائی رائیڈز بہت آہستہ کام کررہا ہے۔جس کی وجہ سے وزن میں غیر معمولی تبدیلی آرہی ہوتی ہے۔تھائی رائیڈز میں تبدیلی کے باعث آپ کے مزاج میں بھی تبدیلی آنا شروع ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے آپ سستی محسوس کرتے ہیں ۔ بعض لوگ مزاج میں تبدیلی کے باعث شدید ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں۔گلے میں سوجن تھائی رائیڈز کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ گلے کی سوجن کا علاج فوری طور پر کروالینا چاہیئے کیونکہ گلے کی سوجن خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔اس کے علاوہ خشک جلد ، بھربھرے ناخن، کمزور بال، نظر کی کمزوری ، ہڈیوں میں درد اور تھکاوٹ وغیرہ بھی تھائی رائیڈز ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔تھائیرائیڈ کے مریضوں کیلئے مفید اور مضر غذائیں🍜:گردن کے نچلے حصے میں موجود بظاہرایک چھوٹا سا غدود (جوعام طور پر تھائیرائیڈ گلینڈزکے نام سے جانا جاتا ہے)جسم کے تمام افعال میں باقاعدگی کاذمہ دار ہوتا ہے لیکن یہ باقاعدگی تب ہی ممکن ہے جب یہ گلینڈ ایک خاص مقدار میںجسم کے تمام خلیوں کو توانائی دینے والے ہارمونز خارج کرتا رہے۔ ان ہارمونز کی کمی یا زیادتی تھائیرائیڈگلینڈ کی مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ دنیا بھر میں خواتین کی ایک بڑی تعداد تھائیرائیڈ گلینڈ سے متعلق مختلف بیماریوں کا شکا ر ہے۔ اس بیماری کی شرح مردوں میں4سے 5فیصد اور خواتین میں10سے12فیصد تک ہوتی ہے۔ قدرت نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے، طبی ماہرین کی رائے کے مطابق تھائیرائیڈ کے مریضوں کے لیے میوہ جات دو طرح سے مفید ہیں۔مثال کے طور یہ میوہ جات نہ صرف آئرن کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں بلکہ ان میوہ جات میں سیلینیم کی بھی کافی مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ مقدار تھائیرائیڈگلینڈ کے افعال کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔دن بھر میں مٹھی بھر میوہ جات سیلینیم کی مطلوبہ مقدار کو پورا کردیتے ہیں۔سمندری غذا : سمندری غذاؤں(سی فوڈ) کو آیوڈین کے حصول کابہترین ذریعہ تسلیم کیا جاتا ہے اور صحت مند تھائیرائیڈ کے لیےآیوڈین کی مناسب مقدار بے حد ضروری ہے۔ امریکی باشندوں کی زیادہ تر تعداد اپنی خوراک میں آیوڈین کی مناسب مقدار لازمی شامل کرتی ہے۔ یہ مقدار انھیں سمندری غذاؤں اور ڈیری مصنوعات سے بآسانی حاصل ہوجاتی ہے۔ قدرتی طور پر آیوڈین کی ایک اچھی مقدار سمندری خوراک جیسے مچھلی، جھینگے وغیرہ میں کثرت سے پائی جاتی ہے لیکن ان غذاؤں کی زیادہ مقدار ایک ساتھ لینے سے گریز کیا جائے۔ جہاں آیوڈین کی مناسب مقدار تھائیرائیڈکے مریضوں کے لیے بے حد ضروری ہے، وہیں زیادہ مقدار نقصان دہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ طبی ماہرین ان مریضوں کے لیے مرغن اورزیادہ مسالا دار غذائیں، جن سے قبض ہونے کا اندیشہ ہو، ان کے استعمال سے بھی گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔چاول:چاول اور گندم تو لوگوں کی بنیادی غذا ہے۔ چاول میں موجود سیلینیم جِلد، جھلیوں اور تھائیرائیڈ کو صحت مند رکھتا ہے۔ سویا بین سے بنی مصنوعات : (مثلاً سویا ملک) تھائیرائیڈ گلینڈکی ہارمونز خارج کرنے کی صلاحیت کو متاثرکرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ اس لیے اگر تھائیرائیڈ کے مریضوں کی خوراک میں آیوڈین کی مناسب مقدار موجود ہے، تو سویا بین سے بنی مصنوعات کے استعمال کی فکر سے آزاد ہوجائیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.