بچوں میں خون کی کمی پوری یہ ملک شیک بناکے پلائیں

بچوں میں خون کی کمی پوری یہ ملک شیک بناکے پلائیں

آج کل زیادہ تر بچے خ ون کی کمی کا شکار ہیں۔ جس کی سب سے بڑی وجہ جنک فوڈز اور بازاری اشیاء کا زیادہ استعمال ہے جو بچے کی صحت پر برے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ اور بچے خون کی کمی کا شکار ہو کر دن بدن کمزورہوجاتےہیں۔ بچوں میں خ ون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے یہ ملک شیک بنائیں ۔ اور اس کا ایک گلاس بچوں کو روزانہ بنائیں ۔ ا س سے نہ صرف بچوں میں خ ون کی کمی پوری ہوگی۔ بلکہ چہرے کی رنگت بھی نکھر جائےگی۔ تو اس کا طریقہ استعمال اور ترکیب اس کی یہ ہے کہ آپ نے چار عدد گاجریں لینی ہیں۔ چار عدد چقندر لینے ہیں۔ اور دودھ کا ایک گلاس لینا ہے۔ سب سےپہلے گاجر اور چقندر کا جوس نکال لیں۔ پھر اس میں دودھ ڈال کر اچھی طرح سے بلینڈ کرکے اس کو استعمال کریں۔ یہ بچے کور وز ایک گلاس دیں۔ اس سے اس کی خ ون کی کمی پوری ہوجائے گی۔اور اس کی رنگت بھی نکھر آئے گی۔ جسم میں خ و ن کی کمی یا انیمیا درحقیقت جسم مین خ و ن کے سرخ خلیات کی کمی کو کہاجاتا ہے جوآکسیجن کی فراہمی کا کام کرتے ہیں اس مرض میں خ و ن کے صحت مند سرخ خلیات میں ہیمو گلوبن کی کمی ہوجاتی ہے جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن پہنچاتے ہیں ۔ہیموگلوبن وہ جز ہے جو خ و ن کو سرخ رنگ دیتا ہے یعنی جسم کو خ و ن کی کمی سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ ہیمو گلوبن کی سطح کو مناسب حد تک برقرار رکھا جاسکے کیونکہ اس کی کمی شدید تھکاوٹ اور کمزوری کے ساتھ ساتھ انیمیا کا شکار بنا سکتی ہے یہ ایسا مرض ہے جو مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے بچے کی پیدائش سے قبل تو تقریبا زیادہ تر خواتین خ و ن کی کمی کا شکار ہوتی ہی ہیں لیکن بعض خواتین وضع حمل کے بعد بھی خ و ن کی کمی کا شکار ہوجاتی ہیں خ و ن کی کمی کی وجہ سے چکر آتے ہیں انسان کا رنگ پیلا پڑ جاتا ہے آنکھوں کے نیچے حلقے پڑ جاتے ہیں چہرہ بے رونق ہوجاتا ہے اس قدرتی نسخہ کو تیار کرنے کے لئے چار چیزیں لے لیجئے شہد اگر یہ نہ ہوتو شکر یا چینی کا استعمال کرسکتے ہیں اور اگر چینی براؤن ہوتو زیادہ بتر ہے تازہ دودھ دیسی گھی اور تین سے سات عددکھجوریں حسب ذائقہ سب سے پہلے ایک صاف برتن لے لیجئے اور اس میں دو کپ خالص دودھ ڈال کرچولہے پر ہلکی آنچ پر رکھ دیجئے دودھ کچا ہونا چاہئے دودھ کیلشیم اور پروٹین سے بھر پور غذا ہے

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *