ہیپا ٹائٹس کی علامات احتیاطی تدابیر ہیپا ٹائٹس بی ،سی کا مکمل علاج

ہیپاٹائٹس بی وائرس انفیکشن شدہ جسم کے سیال یعنی، خ ون، لعاب، اور منی کے ساتھ رابطے میں آنے سے پھیلتا ہے۔

یہ ج ن س ی طور پر، یا انجیکشن کے ادویاتی استعمال کے سامان کے اشتراک، نیڈل اسٹک، متاثرہ ماں کے ذریعہ پیدا ہونے والے بچہ میں، ایک متاثرہ شخص کے کھلے گھاووں یا زخموں کے ساتھ رابطہ میں آنے سے، اور ایک متاثرہ شخص کے ریزرس اور ٹوتھ برش کے اشتراک سے پھیل سکتا ہے۔ اگرچہ لعاب منتقلی کے ذرائع کے طور پر کام کرتا ہے، لیکن اس بات کا امکان نہیں ہے کہ بوسہ زنی وائرس کی منتقلی کے قابل زیست ذرائع ہو۔آج ہم بات کریں گے کہ ہیپا ٹائٹس بی اور سے کے بارے میں یہ ایک وائرس ہوتا ہے جو کہ ایک سے دوسرے کو لگتا ہے ۔کچھ افراد پیلیا یرقان اور ہیپاٹائٹس کو ایک مرض سمجھتے ہیں جو یرقان ہے یہ کسی جگر کی خرابی کیوجہ سے جسم میں ہوتا ہے ۔ جو ہیپاٹائٹس بی سی اس کا وائرس ہوتا ہے جس کیوجہ سے جسم میں داخل ہوتا ہے اس کے پھیلنے کیوجہ ہے وہ یہ ہے کہ آنسوؤں سے پیشاب اور پسینے سے بھی پھیل سکتا ہے ۔ ج ن سی رطوبات ہوتی ہے ان سے بھی یہ پھیلتا ہے جب یہ نمودار ہوتا ہے بھوک نہ لگنا ، فلو ،بخار سی کیفیت رہنی جسم میں سستی اور تھکاوٹ محسوس ہونا اس کے پھیلنے کے ذریعے اور بھی جیسے کان چھدوانا یا کسی مریض کا بغیر ٹیسٹ کیا ہوا خ ون لگ جانا ۔ شیو کیلئے جو بلیڈ استعمال ہوتا ہے ۔تولیہ وغیرہ ایسی وجوہات جن سے یہ پھیلتا ہےاگر اس کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو اس کے بعد بہت ساری پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں یعنی اُلٹیاں آنا اس کے ساتھ گھبراہٹ بے ہوشی طاری ہوجانا یہ بہت ساری وجوہات ہے ۔ ان کے بعد انسان کی جسمانی کیفیت وہ بہت خراب حالت میں ہوتی ہے اس کی آخری سٹیج میں جگر کا کینسر بھی ہوجاتا ہے ۔ اس کے بچاؤ کیلئے آپ نے کسی اچھے ڈاکٹر کے پاس جانا ہے جہاں پر دانتوں کا معائنہ کروانا ہے اس کیلئے آپ نے واش روم صا ف ستھرا استعمال کرنا ہے جو کان وغیرہ چھدوانے کیلئے ایک نیڈل جوآپ نے استعمال کرنی ہے ۔ اس کے علاج کیلئے نکس وومیکا30میں لینی ہے اور لیکوپوڈیم 30اور چیلی ڈونیا 30میں لینی ہے ان تینوں میڈیسن کو ملا لینا ہے آپ نے دن میں تقریباً چار دفعہ اس کے پانچ پانچ قطرے آدھا گھونٹ پانی کے اندرملا کر پینے اس سے انشاء اللہ آپ کا ہیپاٹائٹس بی اور سی کا مسئلہ حل ہوجائیگا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.