تھائی رائیڈ کو ہمیشہ کے لیے جڑ سے ختم کر یں۔

تھائی رائیڈ ایک غدود ہے جو گلے میں سانس کی نالی کے اردگر د لپٹا ہوا ہوتا ہے یہ ہمارے میٹا بولیزم کو ریگولیٹ کر تا ہے ہم جو بھی کھاتے ہیں انہیں جسم میں جذب کرنے میں مدد دیتا ہے غذا سے حاصل ہونےوالی انرجی کو بھی کنٹرول کر تا ہےا گر کسی وجہ سے اس کے فعل میں خلل پیدا ہو جا ئے تو اس سے تھائی رائیڈ کی بیماری پیدا ہو جا تی ہے تھائی رائڈ ایک خاموش بیماری کا نام ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس مرض کی تشخیص نہیں کرپاتے۔پاکستان میں اینڈوکرانولوجسٹ کی شدید کمی ہے خصوصاً دیہی علاقوں میں اس مرض میں مبتلا افراد کے علاج معالجے کی کوئی سہولت موجود نہیں جبکہ یہ مرض تیزی کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔

اور جن خاندانوں میں یہ مرض موجود ہو ان خاندانوں کو آپس میں شادیاں نہیں کرنی چاہئیں۔ تھائی رائیڈ گلینڈ کی شکل تتلی کی مانند ہوتی ہے۔گلے میں جہاں ٹائی باندھی جاتی ہے،نرخرے کے نیچے ہوتا ہے۔ہمارے جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمل کو تھائی رائیڈ کنٹرول کرتا ہے۔ اس کا خارج کردہ ہارمون جسم کے تمام خلیوں کو توانائی دینے میں مددگار ہے۔ اس کی بہت ساری بیماریاں ہیں لیکن تین مشہور ہیں۔ گلہڑ آیوڈین کی کمی سے گلے کوپھلا دیتا ہے۔ ہائپو تھائی رائیڈ میں ہارمون کم مقدار میں خارج ہوتے ہیں۔ تھکاوٹ ، کمزوری، جسم کی سوجن، وزن کا بڑھنا، دل کی دھڑکن، اسکن پرابلم، بھوک کی کمی وغیرہ ہوتی ہے جبکہ ہائپر تھائی رائیڈ میں وزن کم ہوتا ہے۔ غصہ، چڑچڑاپن مزاجی کیفیت بدل جاتی ہے۔ آیوڈین کی کمی کا مسئلہ صرف پاکستان کو ہی نہیں بلکہ دنیا کے دوسرے ممالک کو بھی درپیش ہے۔

آیوڈین والا نمک بھی ڈاکٹر تجویز کرتے ہیں۔ سمندری مچھلی میں بھی آیوڈین ہوتی ہے۔ یہ ایک بیماری نہیں بلکہ کئی بیماریوں کا پیش خیمہ ہے۔ اس کا لیبارٹری ٹیسٹ ہوتا ہے جو مہنگا بھی ہے مگر پتا چل جاتا ہے اور دوا تجویز کرنے میں سہولت ہوتی ہے۔ گولیاں ہیں پھر ریڈیو ایکٹیو آیوڈین ہے۔ پھر آپریشن ہے۔ بہرحال اس کا برابر معائنہ اور ٹیسٹ کراتے رہنا چاہیے۔ ڈپریشن، ذہنی طورپر معذوری، کمی اسی سے ہوتی ہے۔ آپ ڈاکٹر سے مشورہ کرکے ٹیسٹ کروائیں۔

اس کی زیادتی، کمی دونوں انسانی صحت کیلئے مسئلہ بن جاتی ہیں ٹرا سائونڈ کرا لینا چاہیے، اگر کینسربڑھ گیاہے تو سرجری کے ذریعے علاج ہوتاہے۔ لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈاکٹر اسرار احمد نے بتایا کہ یہ ہارمونزکی زیادتی کی وجہ سے بھی ہوتاہے۔اس سے پسینہ زیادہ آتاہے ،تھائی رائیڈ کی زیادتی ذہنی نشوونما متاثرکرتی ہے آواز میں فرق پیداہوجاتاہے بھوک زیادہ لگتی ہے

،انہوں نے کہاکہ اس کے تین طریقہ علاج میں سرجری، ادویات اور خطروں سے بھی اس کا علاج کیاجاتاہے مرض بہت بڑھ جانے پر سرجری کراناپڑتی ہے مریض کو ہرچھ ماہ چیک کرانا چاہیے اب آج تو اس بیماری تھائی رائیڈ کا علاج بھی نکل آ یا ہے۔ جو کہ تقریباً ہر کوئی ہی جانتا ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *