”دانت جتنے بھی خراب ہوں بس ایک چٹکی دانتوں پر لگا لیں“

”دانت جتنے بھی خراب ہوں بس ایک چٹکی دانتوں پر لگا لیں“

میٹھی چیزوں سے پرہیز کرنا اور عمر کے حساب سے فلورائیڈڈ ٹوتھ پیسٹکا استعمال بچوں میں صحتمند دانت یقینی بنانے کا اب بھی بہترین طریقہ ہے۔مگر والدین کی زبردست کوششوں کے باوجود بھی چند بچوں کے دانت قدرتی طور پر دوسرے بچوں کے مقابلے میں کمزور ہوتے ہیں اور آسانی سے خراب ہوجاتے ہیں۔شدید متاثر دانتوں میں علاج کے لیے وقت کم ہوتا ہے اس لیے باقاعدگی سے ڈینٹسٹ کے پاس جانا بہت اہم ہے۔بچوں کو ڈینٹسٹ کے پاس 12 ماہ کی عمر میں پہلی بار لے جانا چاہیے یا پھر تب جب دانت پہلی بار باہر آئیں۔ بعض خوراک اور مشروبات میں رنگ ہوتے ہیںجو دانتوں کے سطح پر موجود باریک سوراخوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ جیسے کافی اور چائے۔بعض مصنوعات جیسے ماؤتھ واش کے استعمال سے بھی دانت پیلے ہو سکتے ہیں۔دانت میں فیلنگ بھی اُس کی رنگت پر اثرانداز ہوتی ہے۔ دانت کے اندر موجود پٹھے کو ختم کر دینے سے بھی اُس کی رنگت ماند پڑ جاتی ہے۔اگر آپ دانتوں کے درد کھوڑ ٹھنڈہ گرم لگنے ماسخورہ دانتوں کا ہلنا اور مسوڑوں کے خرا ب ہونے جیسے مسائل سے پریشان ہیں تو بے فکر ہوجائیںآج آپ کو ایک سفوف بنانے کا طریقہ بتائیں گے جو ان تمام مسائل کا ایک ہفتے میں خاتمہ کردے گا ۔دانت آپکی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ آپ کی اچھی صحت کے بھی ضامن ہوتے ہیں انکی دیکھ بھال اور صفائی میں عدم دلچسپی زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہے مسوڑوں کی س وزش اور ان سے خ ون نکلنا دانتوں کی پہلی بیماری ہے۔ اگر آپ کا منہ بیک۔ٹیریا سے پا۔ک نہیں ہوگاناصرف دانتوں اور مسوڑوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ آپکا جسم بھی انف۔یک۔شن متاثر ہوگا

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *