کھانے گوشت وغیرہ کے بعد کولڈ ڈرنک مت پئیں ،ماہرین نے نئی تحقیق میں خبردارکردیا

کھانے گوشت وغیرہ کے بعد کولڈ ڈرنک مت پئیں ،ماہرین نے نئی تحقیق میں خبردارکردیا

کیا آپ یا آپ کے بچے اکثر کوکا کولا اور پیپسی جیسے سافٹ ڈرنک پیتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو یہ جان لیں کہ دل کی بیماری، موٹاپا اور ذیابیطس جیسے مسائل آپ کے دروازے پر دستک دینے کیلئے تیار کھڑے ہیں۔اگرچہ ایک مدت سے ان مشروبات کے نقصانات کے بارے میں تحقیقات سامنے آ رہی ہیں۔مگر مغربی ممالک میں اب انہیں اس قدر مہلک قرار دے دیا گیا ہے کہ ان کے خاتمے یا کمی کیلئے باقاعدہ مہم شروع کر دی گئی۔اخبار ”میل آن لائن“ لوننگ پوپ نامی مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کا مقصد لوگوں کو سافٹ ڈرنک چھوڑنے پر مائل کرنا ہے۔سرکاری ادارے این ایچ ایس کی مدد سے چلائی گئی اس مہم کے مطابق کولا ڈرنکس تمباکو کی طرح عوام کو گرفت میں لے چکے ہیں اور یہ دل، جگر اور معدے کی بیماریاں پیدا کرنے کے علاوہ موٹاپہ، دانتوں کی بیماریاں اور ہڈیوں کی بیماریاں پیدا کر رہے ہیں۔مہم کیلئے دو خصوصی پوسٹر بھی تقسیم کئے جا رہے ہیں جن کے مطابق روزانہ ایک کین کولا ڈرنک پینے والوں میں ہارٹ اٹیک کا خدشہ 33 فیصد بڑھ جاتا ہے جبکہ ایک سال کے دوران ان کا وزن تقریباً 6 کلوگرام بڑھ جاتا ہے۔اس مہم میں خصوصاً اس بات پر توجہ دی جا رہی ہے کہ 4 سے 10 سال عمر کے بچوں اور ٹین ایجرز کو کولا ڈرنکس سے مکمل طور پر بچایا جائےکیونکہ ان کیلئے یہ ز ہ، ر ہے اور کولا ڈرنکس میں پائے جانے والے اجزاءاور خصوصاً اضافی میٹھا ان بچوں اور نوعمر لوگوں پر اس عمر میں جو اثر ڈالتا ہے وہ ساری عمر کیلئے روگ بن سکتا ہے۔برطانیہ میں کوشش کی جا رہی ہے کہ سٹوروں، کالجوں اور کھیل کے میدانوں کے قریب قریب کہیں بھی کوکا کولا اور پیپسی جیسے مشروبات نظر نہ آئیں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *