کیا گھریلو ٹوٹکوں سے زکام کا علاج ممکن ہے؟

اس کے علاوہ ایک پیچیدگی کی جانب محققین کا رجحان نہیں رہا کہ آیا لوگوں میں کسی چیز کی کمی تھی جیسا کہ وٹامن سی یا زنک، جب انھوں نے اس کی خوراک لینا شروع کی۔

یعنی کہ زکام کے علاج کے طور پر لی گئی اضافی خوراک کچھ افراد میں دراصل ان میں پہلے سے موجود کمی کو پورا کر کرنے کا سبب بنی۔

ایک تحقیق کے مطابق ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں کہ زکام سے بچاؤ‌کے لیے ہربل ٹوٹکے کے طور پر شمالی امریکہ میں پائی جانے والی ایک جڑی بوٹی مفید ہوتی ہے، ان کے مقابلے میں اس جڑی بوٹی کے علاج پر یقین نہ کرنے والوں کے مقابلے میں کم شدت کا اور کم عرصے کے لیے زکام ہوتا ہے۔

دودھ کو عرصہ دراز تک زکام میں بلغم پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ لیکن ایک تحقیق کے مطابق وہ لوگ جو سمجھتے ہیں دودھ کی وجہ سے بلغم پیدا ہوتا ہے انھیں دودھ پینے کے بعد سانس کی تکلیف کا سامنا ہوا۔

یونیورسٹی آف ساؤتھمپٹن سے منسلک ہیلتھ سائیکالوجی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر فیلیسٹی بشپ کہتی ہیں کہ پلیسبو عام طور پر کلینکل ٹرائلز کے دوران ڈاکٹرز کے زیرنگرانی استعمال ہوتے ہیں، ہمارے روز مرہ کی زندگی میں گھریلو ٹوٹکوں سے بھی پلیسبو کی طاقت حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ تحقیق کے مطابق پلیسبو کی گولی کی طاقت مریضوں اور صحت کے عملے کے پیشہ ور افراد کے اعتماد کے رشتے سے آتی ہے، یعنی کوئی ایسا شخص جو خیال رکھنے والا ہو اور اعتماد کے ساتھ علاج کی پیشکش کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اور یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسا ہمارے والدین ہمارے بچپن میں ہمارے ساتھ کرتے تھے۔ رشتے کی نوعیت یہاں زیادہ اہمیت کی حامل ہے نہ کہ وہ فرد۔‘

پروفیسر بشپ کے مطابق قابل بھروسہ دوستوں اور خاندان کے افراد سے پلیسبو کے اثرات مزید موثر ہوسکتے ہیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.