ڈاکٹر نے کاہ پاؤں کاٹنا پڑے گا لیکن اس نسخہ کے استعمال سے شوگر بالکل ختم ہوگئی۔

شوگر ایک ایسا مرض ہے جو انسانی جسم کو خاموشی سے اندر ہی اندر کھوکھلا کر کے مختلف امراض میں مبتلا کرنے کا سبب بن جاتا ہے اس مرض کے لاحق ہونے کا مطلب ہے کہ متعدد اقسام کی غذاؤں کی لذت سے منہ موڑ لیا جائے خاص طور پر میٹھی اشیاء سے دوری اس کے مریضوں کی بہتر صحت کے لئے ضروری ہے اس مرض کے مریضوں کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے اس سے محفوظ رہنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے کھانے پینے پر توجہ دیں شوگر کے مریض کے لئے دوا کے ساتھ غذا پر بھی توجہ دینا ضروری ہے کیونکہ اس موذی مرض میں پرہیز بہت ضروری ہے اور بعض حضرات پرہیز کے نام پر خود پر ہر نعمت کو حرام کرلیتے ہیں اس کے لئے آپ کو صرف اتنا کرنا ہے

کہ غذاؤں کے انتخاب میں ڈاکٹروں کے مشورے پر پوری توجہ دیں چونکہ متبادل غذاؤں کا نظا م رہنمائی کے لئے موجود ہے بعض لوگ وزن بڑھنے کے خوف سے شوگر کی ادویات کے استعمال میں بے جا احتیاط برتتے ہیں شوگر کی کچھ ادویات خون میں شکر کی مقدار میں کمی کرکے بھوک میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں جس کے باعث وزن بڑھنے لگتا ہے۔لہسن دیسی چھلا ہواآدھا چھٹانک۔ادرک دیسی سبز ایک چھٹانک ۔پودینا دیسی سبز ایک چھٹانک اور انار دانہ کھٹا ایک چھٹانک اگر ادرک اور پودینا سبز نہ ملے تو خشک بھی استعمال کر سکتے ہیں اس کی چٹنی بنا لیں ایک چمچ صبح دوپہر شام ناشتے اور کھانےکے ساتھ یہ استعمال کریں اس چٹنی کو شوگر کے مریضوں اور عورتوں کے امراض اور معدے کے امراض میں بہت آزمایا گیا ۔شوگر کے وہ مریض جن کا زخم آخری حد تک پہنچ چکا گینگرین بن گیا

سرجن پاؤں یا پنڈلی کاٹنے کا مشورہ دے رہے تھے یا جسم کا وہ حصہ جہاں شوگر ہے اسے کٹوانے کا مشورہ دے رہے وہ پریشان بھی نہ ہوں اور مایوس بھی نہ ہوں یہ چٹنی بنا کر چاہے زیادہ بنا کر آپ فریج میں بھی رکھ سکتے ہیں بس ایک چمچ صبح دو پہر شام استعمال کریں اور پھر اس کا کمال دیکھیں آخری درجے کی شوگر ختم ہوجاتی ہے ۔زخم بھر جاتے ہیں اور وہ زخم جس سے خون اور پیپ رستا ہو وہ بالکل ختم ہوجاتے ہیں اور جن کے پاؤں اور پنڈلیوں پر ورم ہو اور انگلی دبانے سے گڑھا پڑجاتا ہو اور سوجن روز بڑھ جاتی ہو انہیں جب استعمال کرایا تو اسے بہت مفید پایا گیا ورم جسم کے جس حصے میں بھی ہو اسے استعمال کرائیں چاہے تو مقدار خوراک آدھا چمچ بھی لے سکتے ہیں یا کم یا زیادہ بھی کرسکتے ہیں لیکن اس کو ر یگولر استعمال کریں انشاء اللہ آپ چند ہی دنوں میں اس کا فرق محسوس کریں گے ۔

صرف پاکستان میں ہر سال ذیابیطس کے مرض کے باعث تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے اور یہ تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔یہی نہیں بلکہ ذیابیطس پاکستان میں ہلاکتوں کی آٹھویں بڑی وجہ بھی ہے اور 2005 کے مقابلے میں اس سے متاثرہ افراد کی ہلاکتوں میں 50 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ان خطرات کے باوجود ذیابیطس کا شکار فیصد لوگوں کو اس بات کا علم نہیں کہ روز مرہ کے معمولات میں تبدیلی کئی معاملات میں بہتری لا سکتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *