پانی پیتے وقت یہ کام کبھی نہ کرنا

امام علی ؑ راستے سے گزررہے تھے دیکھا ایک شخص پانی پی رہا تھا اور پانی پینے کے بعد فورا بات کرنے لگا بس جیسے ہی امام علی ؑ نے یہ دیکھا آپ قریب گئے اور فرمانے لگے اے بندہ خدا میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا کہ جب انسان پانی اپنے منہ کے قریب کرتا ہے تو وہ انسان کے جسم میں موجود احساسات کو اپنی وجود میں سما لیتا ہے اور یوں وہ پانی پینے کے بعد وہ احساسات انسان کے جسم پر قائم رہتے ہیں یاد رکھنا جب بھی پانی پیو اس وقت ادھر ادھر کی بات سوچا نہ کرو کیونکہ اس سے تمہاری سوچ کمزور اور ارادے پست ہوں گے بلکہ جب بھی پانی پیو تو اطمینان کے ساتھ پرسکون رہو

اور پانی پینے کے فورا بعد اللہ کا شکر ادا کرو میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے سنا جو انسان پانی پیتے وقت اطمینان میں رہتا ہے اور پانی پینے کے بعد اللہ کا شکر کرتا ہے تو اللہ اس کے دماغ کو روشن کردیتا ہے اس کی طرف اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے اور یوں وہ دنیا و آخرت میں کامیابی و کامرانی پاتا ہے ۔حافظ صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں کہ “ابتداء میں (ریاض الصالحین میں وارد شدہ احادیث کی ترتیب پر از ناقل) ذکر کردہ احادیث سے اگرچہ کھڑے پانی پینے اور کھانے کا جواز ملتا ہے لیکن ان پر عمل بوقت ضرورت (یا مجبوری) ہی کیا جا سکتا ہے ورنہ اصل مسئلہ یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو بیٹھ کر ہی کھایا پیا جائے ۔یہی افضل عمل ہے ۔ آج کل دعوتوں میں کھڑے کھڑے کھانے کا رواج عام ہو گیا ہے ۔ لوگ کہتے ہیں

کہ اس میں سہولت ہے کہ بیک وقت سارے لوگ فارغ ہو جاتے ہیں لیکن دوسری طرف اس کی قباحتوں کو ،جو اس ایک سہولت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں، نہیں دیکھتے۔ اس میں ایک تو مغرب نقالی ہے جو حرام ہے ، دوسرے نبی کریم ﷺ نے کھڑے کھڑے ہو کر کھانے پینے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے تیسرے اس میں جو بھگڈر مچتی ہے وہ کسی با وقار اور شریف قو م کے شایانِ شان نہیں۔ چوتھے اس میں ڈھور ڈنگروں کےساتھ مشابہت ہے، گویا اشرف المخلوقات انسانوں کو ڈھور ڈنگروں کی طرح چارہ ڈال کر کھول دیا جاتا ہے ، پھر جو طوفانِ بدتمیزی برپا ہوتا ہے، اس پر جانور بھی شاید شرما جاتے ہوں۔ پانچویں، انسان نما جانوروں کو باڑے یا اصطبل میں جمع کرنے کے لئے وقت پر آنے والوں کو نہایت اذیت ناک انتظار کی زحمت میں مبتلا رکھا جاتا ہے۔

جس سے ان کا قیمتی وقت بھی ضائع ہوتا ہےا ور انتظار کی شدید مشقت بھی برداشت کرنا پڑتی ہے ۔ ششم اس انتظار کی گھڑیوں میں یا تو فلمی ریکارڈنگ سننے پر انسان مجبور ہوتا ہے یا بھانڈ میراثیوں کی جگتیں یا میوزک کی دھنیں سننے پر ۔ ہفتم یہ کہ اس طرح کھانا ضائع بھی بہت ہوتا ہے ، بہرحال دعوتوں میں کھڑے کھڑے کھانے کا رواج یکسر غلط ہے اور مذکورہ سارے کام بھی شیطانی ہیں۔ اس لئے دعوتوں کا یہ انداز بالکل ناجائز اور حرام ہے ۔ اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *