قطعِ رحمی کی سزا

ایک مال دار آدمی حج کو گیا اور اپنا مال مکے کے ایک امانت دار شخص کے پاس امانت رکھ دیا اور عرفے کے وقوف وحج سے فراغت کے بعد جب اپنا مال لینے گیا ؛ تو پتہ چلا کہ اس شخص کا انتقال ہوگیا ہے اور یہ بھی علم ہوا کہ اس کی امانت کے بارے میں اس کے رشتہ داروں کو کچھ بھی علم نہیں ہے ۔

بعض علماء نے اس کا مسئلہ سن کر کہا کہ آدھی رات میں ’’ زم زم ‘‘ کے کنویں میں اس کو پکارو کہ اے فلانے ! اگر وہ جنتی ہے ، تو جواب دے گا ، وہ گیا پکارا ؛ مگر کوئی جواب نہیں ملا ۔ علماء نے مشورہ دیا کہ بیر ’’ برہوت ‘‘ ( جو یمن کا ایک کنواں ہے ) اس میں اس کو پکارو ، اگر وہ دوزخی ہے ، تو وہاں سے جواب دے گا ۔ اس نے جاکر پکارا ، تو جواب ملا اور اس کی امانت کے بارے میں اس نے بتادیا کہ فلاں جگہ رکھی ہے ۔

اس آدمی نے اس سے پوچھا کہ تم دوزخ میں کس طرح چلے گئے ، جب کہ ہم تمھارے بارے میں نیک گمان رکھتے تھے ؟ اس نے جواب دیا کہ میری ایک بہن تھی ، جس سے میں نے قطع تعلق کر رکھا تھا ، اس کی سزا میں مجھے یہاں دوزخ میں ڈالا گیا ہے۔
علامہ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کی تصدیق ، حدیث میں ہے کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا۔ ( الکبائر : ۴۹ )

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.