”خارش کو جڑ سے مٹا دے گا ، خارش کانام ونشان نہیں رہے گا“

ایک بات یا د رکھو سب سے پہلے نا ہمیں یہ چیزیں جا ننی چاہییں کہ ہم بیماری پڑ تے کیوں ہیں یہ خارش ہوتی کیوں ہے

جب خارش کی وجہ کا پتہ چل جا ئے گا نا تو پھر اس کا علاج بھی پتہ چل جا ئے گا اس طرح تو نہ تو پتہ چلتا ہے کہ وہ خارش ہے بھی کہ نہیں اس کو پرابلم کیا ہے؟ تو ہمارے ہاں اکثر ٹوٹکوں کے اوپر چلتے ہیں۔اس کے لیے بہترین چیز جو میں بتا تا ہوں یہ پانچ تیل جو بتا ئے ہیں کلونجی کا تیل ۔ زیتون کا تیل۔ ناریل کا تیل۔ سرسوں کا تیل۔

کدو کا تیل۔ یہ پانچوں تیلوں کو آپس میں مکس کرلو اس کو لگاؤ۔ اس کے ساتھ ایک چیز میں اکثر بتا تا ہوں۔ یہ کیلا ۔ خارش کی جگہ کیلے کو پیسٹ بنا کے نا اس کو لگاؤ واللہ تھوڑے دن پہلے میرے پاس ایک مریضہ تھی اس کو ۔ جس کو آپ ڈھدری بولتے ہو۔ یقین جانو تیسرے دن اس نے بتا یا کہ اس کی ڈھدری ٹھیک ہو گئی ہے ہمارے ہاں نہ تو تحقیق کوئی کر تا ہے اچھا ہمارے ہاں سنی سنائی باتیں ہیں نہ تو ہم پڑھتے ہیں نہ ہی ہم جا ننے کی کوشش کر تے ہیں ۔ جتنی احادیث کی کتا بیں ہیں اس میں بابِ طب موجود ہے۔ بخاری کے اندر ہے ۔ مسلم کے اندر ہے۔ ہر حدیث کے کتاب کے اندر ہے۔ وہاں پڑھنے میں کیا حرج ہے کبھی دیکھو تو سہی۔ کبھی جانو تو سہی ۔کبھی سمجھو تو سہی۔۔ لیکن ہم نے کبھی اس کی تحقیق ہی نہ ہم تو سنی بات بس آگے کر دیتے ہیں پیارے پیغمبر جناب ِ محمد ﷺ صرف زیتون کے بارے میں آپ ﷺ نے فر ما یا کہ زیتون کا کھا ؤ بھی پیو بھی اور اس کی مالش بھی کرو۔

کیونکہ یہ مقدس درخت کا تیل ہے۔ خارش کے لیے سب سے پہلے اپنا خ و ن صاف کرو۔ جب خ و ن گندا ہوتا ہے تو اس کا اثر اس کا سائن آپ کی سکن کے اوپر ظاہر ہوتا ہے پھ۔وڑے پھ۔نسیاں نکلتے تھے تو سیانے لوگ کیا کہتے تھے؟ اس کا خ و ن گندا ہے اس کو کڑوے مشروبات پلاؤ۔ اس کا خ و ن صاف ہو گا ۔اس کے خ و ن کی ساری گندگی دور ہو جا ئے گی۔ خارش ایک نہایت تکلیف دہ بیماری ہے، یہ دیگر کئی امراض کی وجہ سے لگتی ہے

ان میں کچھ جلد کی بیماریاں اور کچھ اندرونی بیماریاں ہوتی ہیں۔خارش کم ہو تو اس کا علاج ممکن اور آسان ہوتا ہے، اگر یہ شدت اختیار کرجائے تو اس کے ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے۔جسم پر خارش لگنے کی عام وجوہات میں چٹ پٹے کھانے، حشرات کے کاٹنے یا دواؤں کا استعمال ہوتا ہے۔تو خارش کے لیے یہ جو میں نے باتیں بتائی ہیں۔ ان باتوں پر آپ ضرور عمل کیجئے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.