بلغم کو جڑسے اکھاڑ پھینکنے والا نسخہ

کھانسی موسم گرما اور سرما کا ایک عام مرض ہے جو بچوں بڑوں اور بوڑھوں سبھی کو متاثر کرتا ہے کھانسی کی صورت میں سانس کا تنگ ہونا ہا کھچ کھچ کے آنا اور خاص طور پر رات کو سوتے وقت اور صبح سویرے اور کھانسی کے ساتھ بلغم آنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے اگر کھانسی کا۔بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کو کمزور کر دیتی ہے اور زخم کر دیتی ہے جس سے کوئی بڑی بیماری لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے

کھانسی کے علاج کا مجرب نسخہ درج ذیل ہے کاکڑہ سنگھی شکر تبغال زنجبیل اور پیپلا مول تما م ایک ایک ماشہ لے کر باریک پیس کر سفوف بنا لیں پھر اس سفوف کو شہد میں ملا کر رکھ لیں اور دن میں تھوڑا تھوڑا چاٹتے رہیں یہ کھانسی کو جڑ سے اُکھاڑ پھینکے گا یہ نسخہ بچوں بڑوں سب کے لیے مفید ہے شربت توت سیاہ ایک چائے کا چمچ شربت صدوری ایک چائے کا۔

چمچ اور لعوق سبستاں آدھی چائے کی چمچ کو عرق گاوزبان میں جوش دے کر قہوہ بنا لیں اور صبح نہار منہ اور رات کوسونے سے قبل استعمال کریں انشاءاللہ ایک ہی دفعہ کے استعمال کے بعد مرض غائب ہو جائے گا یہ نسخہ بزرگوں کی عطا ہے جس کا استعمال کھانسی ریشہ پر فوری قابو پاتا ہے اور تکلیف سے نجات عطا کرتا ہے

اس کا استعمال بچوں بڑوں سب کے لیےانتہائی مفید ہے سسٹک فائبروسس سس ٹک فائی برو سس یا سی ایف ایک ایسے بیماری ہو جو اہم طور پر پھیپھڑوں اورہاضمہ کے نظام کو متا ثر کرتی ہے۔ اگرچہ سی ایف کی بیماری کا علاج ہو سکتا ہے اور سی ایف والے مریض عام زندگی گذار سکتے ہیں، لیکن سی ایف کا کوئی علاج نہیں ہے۔

آج کینیڈا کی آدھی آبادی میں 30 سال یا اُس سے زائد عمر کے لوگ سی ایف کی بیماری کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ بچوں کی بڑھتی ہوئی تعداد بلوغت میں پنپ رہی ہے۔سی ایف کی بیماری پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہےپھیپھڑوں اور ہاضم کے اعضاء میں بلغم کا بننا بچےکے بدن کے اوپر والے حصے میں معدہ، لبلبہ، چھوٹی آنت اور پھیپھڑے کی شناخت، ہواکی نالیوں میں بلغم.سسٹک فائبروسس بلغم بناتا ہے جو کہ پھیپھڑوں میں اور نظام ہاضم کے اعضاء میں بنتا ہے جو عمومی لحاظ کی نسبت گاڑھا ہوتا ہے۔

بلغم کا اکٹھا ہونا پھیپھڑوں میں گھٹن اور ہاضمے کے مسائل پیدا کرتا ہے۔عام بلغم پتلا اور پھسلنی ہوتا ہے۔ یہ مٹی اور جراثیم کو ہٹا کر پھیپھڑوں کو صاف رکھتا ہے۔ سی ایف کی بیماری میں بلغم چپچپا اور پھیپھڑوں کی نالیوں کو بند کر دیتا ہے۔ یہ سانس لینے کے عمل میں مشکل کرتا ہے۔ پھر نالیوں میں بیکٹیریا جمع ہو جاتے ہیں۔ یہ انفیکشن اور سوجن کے سلسلے کا باعث بنتا ہے۔

یہ سلسلے پھیپھڑوں کے خلیوں کو تباہ کردیتے ہیں۔سی ایف کی بیماری نظام ہضم کو بھی متاثر کر سکتی ہےسی ایف کی بیماری نظام ہضم کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ بلغم ایسی نالیوں کو جولبلبہ کی رطوبت لے جاتی ہیں اُنہیں بند کر سکتا ہے۔

لبلبہ وہ عضو ہے جو معدہ کے نیچے ہوتا ہے جو اینزائمز بناتا ہے تاکہ چھوٹی آنت میں کھانے کو ہضم کرنے میں مدد دے۔ اینزائمز خلیوں میں لحمیات ہیں جو ردّ عمل کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔ بیشتر اینزائمز ہاضمے میں مدد دیتے ہیں۔جب بلغم کی وجہ سے لبلبہ سے چھوٹی آنت کو جانے والی نالیاں بند ہو جاتی ہیں تو اینزائمز چھوٹی آنت میں نہیں پہنچ سکتے۔

اس کا مطلب ہے کہ کھانا اچھی طرح ہضم نہیں ہوا۔ جب ایسا ہوتا ہے، توسی ایف والا بچہ کھانے سے ضروری مقدار میں غذائیت نہیں حاصل کرتا۔سی ایف کی بیماری موروثی ہے بچے سی ایف کی بیماری کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ سی ایف موروثی بیماری ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ والدین سے اُن کےبچوں کو ملتی ہے۔ 25 لوگوں میں سے 1 ایسا ہوتا ہے جو موروثی اکائی رکھتا ہے جو سی ایف کی بیماری کا باعث بنتا ہے۔

جین، ڈی این اے کا حصہ ہے جو خلیے کو ہدایت دیتا ہے۔ بیشتر اوقات یہ ہدایت لحمیات کے بنانے کے لئے ایک ‘ ترکیب’ ہوتی ہے ۔سی ایف کی بیماری ایک ایسی موروثی اکائی سے ہوتی ہے جو رخصت ہونے والی ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کسی شخص کو موروثی بیماری کو ہونے کے لئے موروثی اکائی کی دو نقول کی ضرورت ہو گی۔

اگر کسی شخص میں جین کی صرف ایک نقل ہے تو اُنہیں موروثی بیماری نہیں ہوگی لیکن وہ جین کو اپنے بچوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔ ایسے لوگ جو رخصت ہونے والی جین کی ایک نقل رکھتے ہیں تو اُنہیں جین کا ‘حامل’ کہا جاتا ہے۔بیشتر والدین کو اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ وہ موروثی بیماری کے جین کے حامل ہیں کیوں کہ وہ صرف جین کی ایک نقل رکھتے ہے اسلئے اُن میں موروثی بیماری کے پیدا ہونے کی علامات نہیں پائی جاتیں، ایک بچے کو جین کی دو نقول کا حامل ہونا ضروری ہے۔

ماں اور باپ دونوں سے ایک ایک ۔دو والدین جنہیں موروثی بیماری کے جین ہوں گے اُن کے موروثی بیماری کے کئی بچے ہوں یا کوئی بھی نہ ہو۔ ہر حمل کے دوران موروثی بیماری کے امکانات وہی ہیں۔موروثی بیماری چھوت کی بیماری نہیں ہے۔ آپ کسی اور سے اسے نہیں حاصل کرسکتے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.