اولاد نہ ہونے کا نقص مرد میں ہے یا عورت میں

اولاد اللہ کا بہت بڑا انعام ہے ایک ایسا انعام کہ جس کے لئے انبیاء کرام ؑ نے بھی دعائیں کی ہیں اللہ نے فرمایا مال اور اولاد تمہارے لئے دنیا کی زینت ہیں اولاد قدرت کی طرف سے عطا کردہ ایک بہت بڑی نعمت ہے کئی لوگ اس نعمت سے محروم ہیں طرح طرح کے مہنگے علاج کروانے کے باوجود اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت بحال نہیں کرپاتے تو آج کی اس تحریر میں بانچھ پن کی ناصرف حقیقت وجوہات سے آگاہ کریں گے بلکہ ایسا حیرت انگیز یقینی اور ثابت شدہ عمل شیئر کریں گے کہ جس سے آپ گھر بیٹھے فوری پتہ لگاسکتےہیں کہ اصل نقص کس میں موجود ہے۔اکثر مرد اور عورت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بچے پیدا کرسکیں گے حقیقت یہ ہے کہ ہر دس جوڑوں میں ایک جوڑا ایسا ہوتا ہے کہ جس کے ہاں حمل ٹھہرنے میں دشواری ہوتی ہے کچھ عورتیں اور مرد بچے نہیں چاہتے

لیکن ایسے جوڑے جنہیں بچوں کی خواہش ہوتی ہے بانجھ پن ان کے لئے افسوس جنجھلاہٹ اور مایوسی کا سبب بن جاتا ہے ہندو پاک کے معاشرے میں بانجھ کا لقب عورت کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے جو قطعی غلط ہے اگر مرد بانجھ ہو تب بھی معاشرے کو یہی بتایا جائے گا کہ عورت بانجھ ہے اور مرد اس کی محبت میں دوسری شادی نہیں کررہا اس کیس میں بھی عظمت کا تاج مرد کے سر پر سجا دیا جاتا ہے اگر بانجھ مرد مزید شادی بھی کر لے تب بھی تشخیص اور علاج کے نام پر عموما قربانی کا جانور عورت ہی کو بنایا جاتا ہے ایک تحقیق کے مطابق پچاس فیصد معاملوں میں مرد بانجھ ہوتا ہے اکثر مرد یقین نہیں کرتا کہ اس میں کوئی خرابی ہے یا یہ کوئی ایسا مسئلہ ہے جس کے ذمہ دار دونوں ہیں وہ طبعی معائنے سے انکار کردیتا ہے یا اس پر سخت غصے کا اظہار کرتا ہے اس کی وجہ معاشرے کا وہ رویہ ہے کہ جس میں مرد کے بانجھ پن کو شرمندگی کا باعث سمجھاجاتا ہے اور مرد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے پیدا کر کے اپنی مردانگی کا اظہار کرے بانجھ پن کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں ان میں سے بعض وجوہات کا علاج ہوسکتا ہے لیکن بعض کا کوئی علاج نہیں ۔ اب تک جتنے بھی علاج آچکے ہیں ان میں اس بانجھ پن کا کوئی علاج سو فیصد کامیاب ثابت نہیں ہوسکا ۔

بلکہ اکثر اوقات تو تشخیص بھی نہیں ہوتی کہ نقص مرد میں ہے یا عورت میں تو ہم آپ کو بانجھ پن کی تشخیص کے دو زبر دست طریقے بتائیں گے کہ جس سے آپ معلوم کر سکیں گے کہ اولاد نہ ہونے کا نقص مرد میں ہے یا عورت میں شیخ الرئیس حضرت بو علی سینا کے مطابق اگر آپ معلوم کرنا چاہیں کہ بچے نہ ہونے کا سبب مرد کی طرف سے ہے یا عورت کی طرف سے یعنی بانجھ پن مرد میں ہے یا عورت میں تو اس کے لئے آپ نے یہ عمل کرنا ہے دو گملوں میں کھیت کی اچھی مٹی ڈال کر ان میں چند دانے کدو کے بیج کے بو دیں دونوں کو الگ الگ جگہوں پر رکھ کر ایک میں عورت پیشاب کرے اور دوسرے میں مرد اگر جس کے پیشاب سے بیج اگ آئیں تو وہ شخص تندرست ہوگا اور جس کے پیشاب سے بیج نہ اگیں تو سمجھ جائیں وہ بندہ یا بندی بانجھ ہے اسی طرح تشخیص کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دو گملوں میں کھیت کی مٹی ڈال کر آپ نے کدو کے بیج بونے ہیں اور پانے دیتے رہیں جب بیج اگنے کے بعد یہ پورے بن جائیں تو گملوں کو الگ الگ کر کے ایک گملے میں پودوں کی جڑ پر عورت ایک ہفتے تک پیشاب کرے اور دوسرے گملے میں پودوں کی جڑ پر مرد پیشاب کرے پس جس کے گملے کے پودے مرجائیں تو سمجھ جائیں کہ وہ بانجھ ہے اور جس کے گملے کے پودے مرجھا نہ جائیں تو سمجھ جائیں وہ مرد یا عورت بالکل ٹھیک ہے۔ یہ طریقہ شاید آپ نے کہیں سنا بھی ہو گا مگر لوگ ایسی باتیں سن کر اگنور کر دیتے ہیں اور ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنا یہ زیادہ مناسب سمجھتے ہیں جبکہ یہ طریقہ تشخیص کئی صدیوں سے چلا آرہا ہے جس میں یقینی طور پر اصل نقص کا ذمہ دار سامنے آجاتا ہے تو میرا مشورہ یہی ہوگا کہ آپ ڈاکٹر کے پاس جا کر پیسوں کو برباد کرنے کی بجائے گھر بیٹھے اس طریقہ کو اپنا کر دیکھئے۔تو امید کرتے ہیں کہ آپ کو آج کا تشخیص کا طریقہ پسند آیا ہوگا ۔شکریہ

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.