”رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا ٹھکانہ دوزخ کا اور جنت کا لکھا جاچکا ہےمزید جانیے“

ابن الدیلمی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں (مشہور صحابی رسول) ابی بن کعب ؓ کی خدمت میں حاضرہو ااور عرض کیا کہ تقدیر کے متعلق میرے دل میں کچھ خلجان سا پیدا ہوگیا ہے، لہٰذ ا آپ اس کے متعلق کچھ بیان فرمائیں، شاید اللہ تعالیٰ اس خلجا ن کو میرے دل سے دور کردے (اور مجھے اس مسئلہ میں اطمینان نصیب ہوجائے)۔ انہوں نے فرمایا کہ سنو! اگر اللہ تعالیٰ اپنے زمین و آسمان کی ساری مخلوق کو عذاب میں ڈال دے

تو وہ اپنے اس فعل میں ظالم نہ ہوگا اور اگر وہ سب کو اپنی رحمت سے نوازے تو اس کی یہ رحمت ان کے اعمال سے بہتر ہوگی (یعنی یہ اس کا محض فضل واحسان ہوگا، اُن کے اعمال کا واجب حق نہ ہوگا اور سنو! تقدیر پر ایمان لانا اس قدر ضروری ہے کہ اگر تم احد پہاڑ کے برابر سونا راہِ خدا میں خرچ کردو، تو اللہ کے ہاں وہ قبول نہ ہوگا جب تک تم تقدیر پر ایمان نہ لاؤ، اور تمھارا پختہ اعتقادیہ نہ ہوکہ جو کچھ تمہیں پیش آتا ہے، تم کسی طرح اُس سے چھوٹ نہیں سکتے تھے، اور جو حالات تم پر پیش نہیں آتے وہ تم پر آہی نہیں سکتے تھے (یعنی جو کچھ ہوتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر اور مقرر ہوچکا ہے اور اس مقررہ پروگرام میں ذرہ برابر تبدیلی ممکن نہیں ہے) اور اگر تم اس کے خلاف اعتقاد رکھتے ہوئے مرگئے

تو یقینا تم دوزخ میں جاؤ گے۔ ابن الدیلمی کہتے ہیں کہ ابی بن کعبؓ سے یہ سننے کے بعد میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا، اس کے بعد میں حذیفہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بھی مجھ سے یہی فرمایا، پھر میں زید بن ثابتؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے یہی بات رسول اللہ ﷺ کی حدیث کے طور پر مجھ سے بیان فرمائی۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک کا ٹھکانہ دوزخ کا اور جنت کا لکھا جاچکا ہے (مطلب یہ کہ جو شخص دوزخ یا جنت میں جہاں بھی جائے گا، اس کی وہ جگہ پہلے سے مقدر اور مقرر ہوچکی ہے)۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا

“تو کیا ہم اپنے اس نوشتہئ تقدیر پر بھروسہ کرکے نہ بیٹھ جائیں اور سعی وعمل چھوڑ نہ دیں (مطلب یہ کہ جب سب کچھ پہلے ہی سے طے شدہ اور لکھا ہوا ہے، تو پھر ہم سعی و عمل کی درد سری کیوں مول لیں) “۔ آپؐ نے فرمایاکہ نہیں! عمل کئے جاؤ، کیونکہ ہر ایک کو اسی کی توفیق ملتی ہے جس کے لئے وہ پید اہوا ہے، پس جو کوئی نیک بختوں میں سے ہے تو اس کو سعادت اور نیک بختی کے کاموں کی توفیق ملتی ہے، اور جو کوئی بدبختوں میں سے ہے تو اُس کو شقاوت اوربد بختی والے اعمال بد ہی کی توفیق ملتی ہے۔ ابو خزامہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی کہ کیا ارشاد ہے اس بارے میں کہ جھاڑ پھونک کے وہ طریقے جن کو ہم دکھ درد

میں استعمال کرتے ہیں، یا دوائیں جن سے ہم اپنا علاج کرتے ہیں، یا مصیبتوں اور تکلیفوں سے بچنے کی وہ تدبیریں جن کو ہم اپنے بچاؤ کے لئے استعمال کرتے ہیں، کیا یہ چیزیں اللہ کی قضاء قدر کو لوٹا دیتی ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ یہ سب چیزیں بھی اللہ کی تقدیر سے ہیں۔ (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم لوگ (مسجد نبوی میں بیٹھے) قضاوقدر کے مسئلہ میں بحث مباحثہ کررہے تھے کہ اسی حال میں حضور اکرم ﷺ باہر سے تشریف لائے (اور ہم کو یہ بحث کرتے دیکھا) تو آپؐ بہت برافروختہ اور غضبناک ہوئے، یہاں تک کہ چہرہئ مبارک سُرخ ہوگیا، اور اس قدر سرخ ہوا کہ معلوم ہوتا تھا آپؐ کے رخساروں پر انار نچوڑ دیا گیا ہے۔

پھر آپؐ نے ہم سے فرمایا کہ کیا تم کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ، کیا میں تمہارے لئے یہی پیام لایا ہوں (کہ تم قضا ء وقدر جیسے اہم ونازک مسئلوں میں بحث کرو)۔ خبردار! تم سے پہلی امتیں اُسی وقت ہلاک ہوئیں جبکہ انہوں نے اس مسئلہ میں حجت و بحث کو اپنا طریقہ بنا لیا۔ میں تم کو قسم دیتا ہوں، میں تم پر لازم کرتا ہوں کہ اس مسئلہ میں ہرگز حجت و بحث نہ کیا کرو۔ (ترمذی)

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *