معدہ کا السر صرف 7دن میں ختم معدہ کے تمام امراض کا کامیاب نسخہ

معدے کا السر معدے کی اندرونی جھلّی نما دیوار کے زخم کا دوسرا نام ہے۔ یہ زخم ہونے کی وجہ اس موٹی رطوبتی تہہ کی موٹائی میں کمی آجانا ہوتی ہے۔ یہ رطوبتی تہہ معدے میں موجود تیزاب سے معدے کی دیوار کو محفوط رکھتی ہے لیکن جب یہ تہہ پتلی ہو تو تیزاب معدے کی دیوار کو گلانے لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ زخمی ہو جاتی ہے۔ معدے کے السر کا علاج مشکل نہیں ہے لیکن اس میں غفلت شدید تکلیف اور پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔اگر السر بڑھنے لگے تو وقت کے ساتھ دل متلانے کا احساس بڑھ کر قے کی شکل اختیار کرلیتا ہے

جو اکثر ہونے لگتی ہے، جو کوئی اچھا تجربہ تو نہیں مگر طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں ادویات جیسے اسپرین اور بروفین سے دور رہنا چاہئے کیونکہ ان کے استعمال سے السر کی حالت خراب ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔واش روم میں فضلے میں خون آنا مختلف طبی مسائل کا باعث ہوسکتا ہے تاہم اگر شکم کے اوپری حصے میں درد کے ساتھ ایسا ہو تو یہ السر کی علامت ہوسکتی ہے، اگر آپ کو بھی اس کی شکایت ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔السر ایک بہت خطرناک مرض ہے ۔ جوکہ معدہ میں ہونیوالے زخم کو کہا جاتا ہے ۔ جس سے انسان ٹھیک طرح کھا پی بھی نہیں سکتا ۔ السر اکثر تیز مصالحہ جات مرغن غذائیں اور بازاری کھانے کھانے سے ہوتا ہے ۔ شروع میں ہلکا سا درد بعد میں زیادہ تکلیف میں بدل جاتا ہے ۔ اس السر میں ڈاکٹر ادویات فائدہ نہیں دیتیں آج ہم آپ کو السر کا تیز ترین اور شرطیہ علاج بتانے لگے ہیں۔

صرف ایک چیز آپ نے استعمال کرنی ہے او رالسر ختم ہوجائیگا۔ اس نسخہ میں آپ نے ملٹھی ایک پاؤ لینی ہے اس کا طریقہ استعمال یہ ہے کہ ملٹھی کا چھلکااتار لیں اور 3گرام ملٹھی صبح نہار منہ ارو 3گرام ملٹھی نماز عصر کے بعد پانی کے ساتھ کھائیں ۔پانی زیادہ نہیں بس تھوڑا سا پینا ہے ۔ملٹھی کا تاثیر گرم ہوتی ہے ۔ یہ گلے منہ اور معدہ کے امراض میں نہایت مفید ہے ۔ نظام انہضام کو درست کرتی ہے ۔ صرف 7دن تک یہ عمل لگاتار کریں۔ السر کے مرض کا جڑ سے خاتمہ ہوجائیگا۔ السر بلاشبہ ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔ یہ دوسرے امراض کا سبب بھی ہے اسی چیز کو دیکھتے ہوئے آج آپ کو یہ نسخہ بتایا ہے کہ جو اس خطرناک مرض کا شکار ہیں اس ٹوٹکے کی بدولت اس مرض سے نجات حاصل کرکے اچھی اور پرسکون زندگی گزار سکیں۔ سات دن تک ملٹھی کھانی ہے آپ پھر دیکھیں گے آپ کو بہت اچھا رزلٹ ملے گا۔ ڈاکٹر کے پاس جانے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *