””قربانی کس پر واجب ہے؟““

عید الاضحی پر قربانی ہر اس بالغ شخص (مرد و عورت) پر واجب ہے جو اس کی حیثیت رکھتا ہو۔حج سے متعلق سما کے پروگرام میں مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل نے واضح طور پر بتایا کہ قربانی اور زکوۃ کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ زکوۃ ساڑھے سات تولہ سونا پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ حج سے متعلق سما کے پروگرام میں مذہبی اسکالر ڈاکٹر جمیل نے واضح طور پر بتایا کہ قربانی اور زکوۃ کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے۔ زکوۃ ساڑھے سات تولہ سونا پر ادا کرنا ہوتا ہے۔

ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ قربانی ہر اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس 52 تولہ چاندی کے برابر کی نقد رقم موجود ہو۔ اس وقت 52 تولہ چاندی کی رقم 40 سے 42 ہزار تک بنتی ہے۔فرض اور واجب کے درمیان فرق سے متعلق سوال پر ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ اللہ کی طرف سے دیئے گئے احکامات فرض ہیں جسکا منکر ہونے والا کافر ہوجاتا ہے اور اگر کسی نے اپنی سستی کی وجہ سے فرائض ادا نہ کیے تو گناہ کبیرہ ہوگا۔ لیکن واجب کے انکار کرنے والے کو ہم واضح طور پر کافر نہیں کہہ سکتے۔

واجب کو ہم فرض کے مقابلے میں کم درجہ کی قسم کہہ سکتے ہیں لیکن واجب بھی بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر جمیل نے بتایا کہ قربانی صرف ملازمت کرنے والی خاتون پر واجب نہیں بلکہ ہر اس خاتون پر قربانی واجب ہے جس کے پاس نصاب کے مطابق ذاتی چاندی یا سونا رکھا ہوا۔ اسکے علاوہ کوئی شخص پورے گھر والوں کی طرف سے قربانی کرنا چاہتا ہو تو اسکے لیے ضروری ہے کہ سب کی نیت یا ارادہ پوچھ لے ورنہ قربانی نہیں ہوگی۔

ڈاکٹر جمیل نے بتایا افضل اور احسن طریقہ یہ ہے کہ انسان قربانی کے وقت جگہ پر موجود ہو تاکہ اسکے اندر ہمت پیدا ہو اور قربانی کرنے کا جذبہ بیدار ہو، تاہم اگر قربانی کرنے والا خود کھڑا نہیں ہونا چاہتا تو کسی کو معاون بنا سکتا ہے۔ جو مسلمان عاقل، بالغ اور مقیم ہو اور قربانی کے دنوں میں اس کی ملکیت میں حاجت اصلیہ سے زائد اور دین سے فارغ اتنا مال ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو خواہ وہ تجارتی ہو یا نہ ہو، اوراس مال پر سال گزر گیا ہو یا نہ گزرا ہو بہرصورت اس شخص پر قربانی واجب ہے۔

(۲) اگر گھر کے تمام افراد صاحب نصاب ہیں توہرایک پر الگ الگ قربانی واجب ہے، ایک جانور کی قربانی تمام اہل خانہ کی طرف سے کافی نہیں،حوالے کے لیے دیکھئے شامی، ہندیہ،بدائع اور دیگر کتب فقہ وفتاوی۔ قربانی ہر اس مسلمان عاقل بالغ مقیم پر واجب ہوتی ہے جس کی ملکیت میں عید الاضحیٰ کے ایام میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی موجودہ قیمت کا مال یا سامان اس کی حاجاتِ اصلیہ (ضروریات) سے زائد موجود ہو۔

یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات ہوں یا مالِ تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یارہائشی مکان سے زائد کوئی مکان، پلاٹ وغیرہ۔ قربانی کے معاملے میں اس مال پر سال بھر گزرنا بھی شرط نہیں ہے۔ جو گھریلو سامان سال میں ایک مرتبہ بھی استعمال ہوتاہو وہ ضرورت کا سامان کہلائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.