”عورت کی تنخواہ پر مرد کا کتنا حق ہے تنخواہ پر والدین اور خاوند کا کتنے فیصد حق ہے“

ایک شخص جو ڈاکٹر ہیں اور انکی بیوی بھی ڈاکٹر ہیں دونوں ہی اپنے پیشے سے وابسطہ ہیں اور شادی کے بعد ڈاکٹر صاحب اپنی بیوی کو کہیں نوکری دلوادی ہے ۔ وہ بھی کماتی ہے صورتحال یہ ہے کہ ان کے خاوند یہ کہتے ہیں کہ اسلام کے مطابق بیوی صرف اس رقم کی حقدار ہے جو وہ اپنے والد کے گھر سے اپنے ساتھ لائے ۔ شادی کے بعد بیوی ملازمت کی صورت میں جو کچھ کمائے گی ۔ وہ شوہر کی ملکیت ہوگا اس صورتحال کیوجہ سے خاندان میں پیچیدہ مسائل پیدا ہوگئے ہیں۔
بیوی کو اپنی آمدنی سے گھر کے تمام اخراجات پورے کرنے پڑ رہے ہیں بلکہ شوہر اپنی رقم سے اپنے ملک میں اپنے ارد گرد نام سے جائیداد خرید رہا ہے کیونکہ بیوی کی تمام تنخواہ گھر کے اخراجات میں سرف ہوجاتی ہے ۔اس لیے یہ ناممکن ہے کہ وہ اپنے والدین کو اخراجات کیلئے تھوڑی بہت رقم بھیج سکے ۔ اس وجہ سے بیوی کیلئے یہ صورتحال قطعاً خوشگوار نہیں ہے ۔ بیوی کا خیال ہے کہ اس کی آمدن پر والدین کا حق ہے ۔ والدین نے اس کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں ہر ممکن مدد کی ۔ محنت کی اور سخت دن گزارے ان کی کوششوں سے وہ لڑکی کچھ نہ کچھ بن سکی ۔ اب وہ اپنی محنت اور ایثار کے خوش کن نتائج میں اپنے والدین کو حصہ دار بنانا چاہتی ہے ۔ تھوڑا بہت آرام کر پائے لیکن شوہر نے بیوی کیلئے یہ راستہ بند کردیا ہے ۔ہم سے پوچھا جارہا ہے کہ اس معاملے میں فیملی کیا کرے ۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق کسی بھی بہن کو اپنے گزر بسر کیلئے کام کرنے کی قطعاً ضروری نہیں ہے ۔ایک شادی شدہ عورت کے شوہر کی ذمہ داری ہوتی ہے وہ اپنے بیوی کو اپنے وسائل کے مطابق معیار زندگی کی آسائشیں فراہم کرے ۔ اگر ایک بیوی اپنے شوہر کے مقابلے میں مالدار ہے تب بھی بیوی کی کفالت اور اس کی ضروریات کی تکمیل شوہر ہی کی ذمہ داری ہے ۔ بیوی کی دولت اس بات میں مانع نہیں ہوسکتی اگر شوہر بیوی کی رضا کے بغیر اس کی دولت سے فائدہ اٹھاتا ہے وہ اس فعل کیلئے جوابدہ ہے اور گنہگار ہے بیو ی اگر چاہے تو اس بنیاد پر خلع کا دعویٰ کرسکتی ہے شوہر اس کی کفالت نہیں کرتا یہاں یہ کہنا بھی غیر متعلق نہیں ہوگا ۔
ایک غیر شادی عورت کو بھی گزر بسر کیلئے کام کرنے کی ضرورت نہیں اس صورت میں عورت کے والدین یا قریبی بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی ضروریات پوری کریں ۔ اگر غیر شادی شدہ عورت کام کرتی ہے اسلام اسے اس بات سے بھی منع نہیں کرتا ہے اگر ایک عورت ملازمت اختیار کرے اس صورت میں حقوق وفرائض کی نوعیت کیا ہوگی ۔یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ اسلام کی روسے ملکیت جائیداد کاروباری معاملات اور تجارتی لین دین میں عورت اور مرد کی حیثیت برابر کی ہے ۔ دونوں میں کوئی فرق شریعت نے نہیں رکھا ہے ۔جب کوئی عورت کام کے عیض آمدنی حاصل کرتی ہے یہ تمام رقم اس کی ملکیت ہے ۔اگر عورت غیر شادی شدہ اس کا والد اس رقم پر دعویٰ نہیں کرسکتا ہے ۔شادی شدہ عورت کی آمدن پر شوہر کا کوئی حق نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.