”دنیا میں گرمی اتنی کیوں بڑھ گئی ہے ۔ نبی ﷺ کا راز بھرا فر مان سنا کر امام مسجد نبوی نے حیران کر دیا۔“

”دنیا میں گرمی اتنی کیوں بڑھ گئی ہے ۔ نبی ﷺ کا راز بھرا فر مان سنا کر امام مسجد نبوی نے حیران کر دیا۔“ گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے ہر انسان اپنی اپنی بصات کے مطابق انتظام کر تا ہے موسمِ گرما کے قہر سے کھیت سوکھے پڑے ہو تے ہیں کنویں ندی نالے تک خشک ہو جا تے ہیں پھر دھوپ کی تپش آئے دن نئے ریکارڈ بنانے لگ جا تی ہے ایسے سخت حالات میں ہر ممکن گرمی سے محفوظ رہنے والا انتظام کر تا ہے

راستہ چلتے اگر کہیں سایہ نظرآ جا ئے تو آرام حاصل کرنے کے لیے وہ فائدہ اُٹھانے کی کوشش کر تا ہے گرمی کی شدت سے اگر حلق خشک ہو کر سوکھ جا ئے تو جہاں پانی نظر آ ئے فوری طور اپنی پیاس بجھانے میں دیر نہیں کر تا اس کے علاوہ اپنے گھر کے اندر بھی ٹھنڈی ہوا کا انتظام کرتا ہے۔ کہا جا تا ہے کہ اگر آپ نے اپنے اعمال سے کسی کا دل جیتنا ہے تو پہلے اس کو اپنا بنا نا ہوگا یہی حساب کچھ گرمی کا بھی ہے۔ اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ اس کا تعلق گرمی سے کیسے ہو تا ہے۔ گرمی ایک ایسا موسم ہے جو ہر کسی سے برداشت نہیں ہو تا ہے اور اس کے بر عکس اگر سردی کو دیکھا جا ئے تو آپ نے سوچا ہو گا کہ سردی کا موسم پھر برداشت کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ تو آج میں آپ کو بتا تا ہوں کہ نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق گرمی کیسے بڑھتی جا رہی ہے۔ اپنی حیثیت کے مطابق انتظام کرنے کی کوشش کر تا ہے ہم دنیا کی اس گرمی اور دھوپ سے بچنے کے لیے بہت کچھ کر تے ہیں لیکن ہم نے آخرت کی گرمی اور جہ نم کی سختی سے حفاظت کے لیے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔ یہی ہماری بد قسمتی ہے

کہ ہم نے آج تک اپنے با رے میں سوچا ہے کبھی کسی کے بارے میں نہیں سوچا جو اللہ پاک کو ہماری یہ ادا پسند آ جا ئے اور اس کے ساتھ ساتھ اگر آپ نے جہ نم کے ع ز اب سے چھٹکارا حاصل کر نا ہی ہے تو آپ کو اچھے اعمال کر نے ہوں گے تبھی یہ سب ممکن ہو سکے گا کہ آپ کی جو جیت ہے وہ جیت ہی رہے گی اور آپ کی جو ہار ہے وہ بھی جیت میں بدل جا ئے گی۔ کہا جا تا ہے کہ یہ دنیا ہے یہ عارضی ہے۔ ٹھیک کہتے ہیں۔ یہ دنیا عارضی ہے اس حقیقت کو ہم جتنا جلدی مان لیں گے اتنا ہم خوش رہیں گے۔ آج میں آپ کو بتا تا ہوں کہ گرمی کیوں بڑھتی جا رہی ہے کیونکہ ہمارے جو گ ن ا ہ ہیں وہ بڑھ چکے ہیں۔ وہ گ ن ا ہ ہمارے اندر گرمی کی شدت کو بڑھاتے جا رہے ہیں نہ ہی ہمیں دن کا سکون ہے نہ ہی ہمیں رات کا سکون ہے بس ہم چاہتے ہیں کہ ہم یہ زندگی جئیں مگر ایسا ہر گز نہیں ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.