جلد بازی شیطان کا کام ہے۔

علی حسن ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا ۔اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص (میراثی) بھی رہائش پذیر تھا۔ مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے ،پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر

چھوڑنے کی عادی تھی ۔ ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوندکاری کے ذریعے گندم کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دگنی فصل دیتا ہے۔ چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کرکے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ شروع کیا ۔ صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں اور آخر ایک سال بعد گندم کا بیج مذکورہ ہونے کا فیصلہ ہو گیا۔ فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لئے شہر بھیجا۔ میراثی لاری پر طویل سفر طے کرکے شہر پہنچا تو تھکاوٹ سے چور تھا ۔ وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تا کہ چند دن آرام کرکے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے ۔میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ”بتیاں شتیاں“ دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا ۔ آخر جب دوبارہ فصل کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی۔ اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے ۔دراصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑ گئی تھی۔ نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا۔ میراثی جب بیج کی بوری گھر پر اٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش کے باعث ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھا ۔وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا۔ بوری پھٹ گئی اور سارا بیج کیچڑ میں بکھر گیا ۔چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کرکے بولا”بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں مار ڈالا ہے“۔ چوہدری پر کھڑوں پانی پڑ گیا اور اسے اپنی غیر حکیمانہ عجلت پر سخت ندامت ہوئی۔جلد بازی شیطان کا کام ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.