نزلہ زکام، چھینکوں کا آ نا۔ ڈسٹ الرجی ، کھانسی اور بلغم سے نجات کا انتہائی آسان گھریلو نسخہ۔

نزلہ زکام صحت کا ایک عام مسئلہ ہے جو بدلتے موسم کے ساتھ تقریباً ہر شخص کو متاثر کرتا ہے .

یہ قوت مدافعت میں کمی اور اعصابی نظام کی کمزوری کے باعث بھی ہوتا ہے . ناک کی جھلی میں پیدا ہونے والی خشکی بھی نزلہ زکام کا باعث بنتی ہے . اس مسئلے سے بچنے کے لیے روزانہ ناشتے میں دودھ کے استعمال کو یقینی بنائیں . چائے ، کافی اور سبز چائے جیسے گرم مشروبات کا استعمال گرمیوں میں کم سے کم کریں . تمباکو اور چھالیا نہ کھائیں . ساتھ ہی لہسن اور ادرک کا استعمال بھی کم کر دیں کیونکہ یہ جسم میں گرمی اور خشکی پیدا کرتے ہیں . ورزش کو اپنا معمول بنائیں تاکہ آپ کے دوران خون میں اضافہ ہو اور آپ کی قوت مدافعت بڑھے ماہرین کے مطابق جب آپ کو چھینکیں آنا شروع ہو ں تو گرم پانی میں نمک ڈال کر ا س سے گلے اور ناک کو اچھی طرح دھوئیں

تاکہ جراثیموں کا خاتمہ ہوجائے . اس کے علاوہ پانچ گرام بیدانہ لے کر گرم پانی میں بھگو دیں اور اس کے بعد پانی کو چھان کر صبح و شام پانچ سے سات دن تک پیئیں . اس سے نزلے اور چھینکوں میں آرام آجائے گا . گلے کی خراش انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اس سے آرام کے لیے املتاس کا گودا ایک کپ پانی میں ابالیں اور چھان کر اس کے غرارے کریں . بہت جلد انفیکشن کنٹرول ہو جائے گا . بدلتے مو سم میں نزلہ زُکام تو اکثر افراد کو ہو جا تا ہے تاہم حال ہی میں یاک ایسی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک خاتون کی چھینکوں نے تو سب کو پر یشا ن ہی کر دیا جو شروع ہو ئیں توبس آتی ہی چلی گئیں ۔ کلا س روم میں مو جو د اس طا لبہ کو چھینکو ں کا دور ہ پڑا تواس نے رکنے کا نا م ہی نہ لیا اور دس نہ بیس بلکہ پوری انتالیس (39) چھینکوں کے بعد ہی طوفانی چھینکو ں کا سلسلہ رکا اور کلا س روم میں سکو ن آ یا ۔

بلغمی مسائل میں مبتلا افراد کو فوری طور پر بادی اور گرم و سرد مزاج والی غذاؤں کو ترک کر دینا چاہیے۔تلی، بھنی، ثقیل، کولا مشروبات،بیکری مصنوعات، فاسٹ فوڈز، دودھ،دہی،چاول،بڑا گوشت،دال ماش،بیگن،آلو،کیلا اور کھیرا وغیرہ سے پرہیز لازم ہے۔موسم کی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کی عملی تدابیرپر عمل پیرا ہوا جائے۔گردو غبار، دھوئیں ، دھول اور پر نم آب وہوا میں جانے سے دور رہا جائے۔تیز خوشبو والے پرفیومز،کریمیں اور لوشنز بھی لگانے سے احتیاط لازمی ہے۔سگریٹ اور چائے نوشی کی کثرت سے بھی بچنا ضروری ہے۔ چاکلیٹی مصنوعات، آئس کریم اور بازاری مٹھائیوں سے اجتناب برتا جائے۔ ٹھندے پانی،فروزن فوڈز ،جام،چٹنی،اچار،کیچپ اور مصنوعی اجزاء سے تیار شدہ مرکبات سے بھی پرہیز کیاجا نا صحت کے لیے بے حد مفید ثابت ہوتا ہے۔یاد رہے کہ پرہیز کا تعلق صرف مرض سے ہوا کرتا ہے،جونہی آپ مرض کے چنگل سے آزاد ہوں گے فوری تمام غذائیں استعمال کر سکتے ہیں۔بیان کردہ پرہیز پر دوران علامات ہی کار بند رہنا ہوتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.