تمام آزمودہ وظائف کا مجموعہ خود آزما کر دیکھ لیں

بسم اللہ کے 12 وظائف جس کو پڑھ کر جو دعا مانگی جائے قبول ہوگی آج ہم جو وظیفہ آپ کو بتانے جارہے ہیں وہ بسمہ اللہ کےساتھ خاص ہے۔اسم بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم کے کرشمات جو بے شمار ہیں ۔جوشخص بسم اللہ الرحمٰن الرحیم 786بار متواتر سات دن تک پڑھے گا کسی حاجت یا مصیبت کو دور کرنے پڑھے گاتو انشاء اللہ سات

دن کے اندر اندر اس کی حاجت دور ہوجائیگی ۔ دوسرا وظیفہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا شیئر کرنے جارہے ہیں ۔جو شخص رات کو سوتے وقت اکیس مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھ کر سوئے وہ تمام انسانی شیطانی شرارتوں جن بھوت اور آگ سے محفوظ رہے گا ۔اگر چاہتا ہے۔ کہ وہ کوئی بھی شیطانی شرارت اس کے ساتھ نہ تو یہ عمل کرکے سو جایہ کریں۔ تیسرا وظیفہ بسم اللہ کا آپ کو بتائیں گے وہ یہ ہے کہ اگر کسی مرگی کا دورہ پڑتا ہے ۔مرگی والے کے کان میں اکتالیس مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم دم کرنے سے وہ ہوش میں آجائیگا۔وظیفہ نمبر چار جو ہم آپ کو بتائیں گے وہ یہ ہے کہ کسی شخص کو کسی جگہ پر درد ہو یا جادو وغیرہ کے اثرات ہوں اسے پتہ ہو کہ متواتر طور پر جادو جاری ہے یا وہ درد ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے ۔ سات سو مرتبہ سات دن تک بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا ہے ۔ سات دن کے اند راندر آرام آجائیگا۔ وظیفہ نمبر پانچ جو ہم بتائیں گے وہ یہ ہے کہ اتوار کو آپ نے سورج نکلتے ہی 313مرتبہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اور سو مرتبہ درود شریف پڑھنا ہے درود شریف کوئی بھی پڑھ لیں۔ اللہ تعالیٰ اس وظیفہ کی مدد سے غیبی رزق کا دروازہ کھول دیں گے ۔وظیفہ نمبر چھ یہ ہے کہ آپ نے اکیس مرتبہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھ کر بچے کے گلے میں ڈالنے سے بچہ تما م آفات سے دور رہتا ہے ۔ وظیفہ نمبر سات یہ ہے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اکسٹھ بار کسی کاغذ پر لکھی جائے جس عورت کی اولاد زندہ نہ رہتی ہو اس کو اپنے بطور تعویز رکھا جائے تو انشاء اللہ اس عورت کی اولاد زندہ رہے گی یہ عمل مجرب اور آزمودہ عمل ہے ۔ جس بھی عورت کی اولاد زندہ نہ رہتی اسے یہ عمل کرنا چاہیے ۔وظیفہ نمبر آٹھ یہ ہے کہ جو کوئی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم چھ سو پچیس بار لکھ کر اپنے پاس رکھے گا اللہ تعالیٰ اس کو حیبت عظیم دے گا کوئی شخص اسکو ستا نہ سکے گا۔ امام راضی ؒ تفسیر کبیر جلد اول صفحہ نمبر 168 پر فرماتے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی برکات لکھتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ یہ وظیفہ نمبر ذکر ہے امام راضی ؒ کہتے ہیں کہ فرعون دعوہ واحیت ایک مکان بنایا تھا اس کے بیرونی دروازے پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھوائی ۔ جب اس نے خدائی دعوہ کیا تو موسیٰ ؑ نے ا سے تبلیغ کی لیکن اس نے قبول نہ کی ۔ موسیٰ ؑ نے اس کے حق میں بددعا کی خداوند تونے اس خبیث کو کس لیے مہلت دے رکھی ہے ۔ لیکن اس کے دروازے پر بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھی ہوئی جس کیوجہ سے یہ عذاب سے بچا ہوا ہے ۔ اسی وجہ سے فرعون پر گھر

میں عذاب نہیں آیا اسے وہاں سے نکال کر دریا میں غرق کیا گیا۔جب ایک کافر کا گھر بسم اللہ کیوجہ سے عذاب سے بچ گیا اگر کوئی مسلمان اسے دل ودماغ میں لکھ تو تمام آفات وبلیات سے محفوظ رہے ۔ حضرت مولانا شاہ عبدالطیف دہلوی ؒ لکھتے ہیں کہ جب طوفان نوح نے اس دنیا کو خوف ناک عذاب میں گھیر لیا تو نوح ؑ اپنی کشتی میں سوار ہوئے تو وہ بھی خوف سے لرزاں تھے ۔ انہوں نے اس سے نجات پانے اور محفوظ رہنے کیلئے بسم اللہ کا کہا تو اس کلمہ کی برکت سے ان کی کشتی محفوظ رہی ۔ اس آدھے کلمہ کیوجہ سے اتنے حبیت ناک طوفا ن سے نجات حاصل ہوئی ۔ وظیفہ گیارہ ہے حضرت سلیمان ؑ نے جب بلقیس ملکہ یمن کو پہلا خط لکھا اِنَّہٗ مِنۡ سُلَیۡمٰنَ وَ اِنَّہٗ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ۔تو اس کی برکت بلقیس انکے نکاح میں آئی ۔ اسکا پورا ملک حضرت سلیمان ؑ کے حصے میں آگیا۔ وظیفہ نمبر بار ہ حضرت خالد بن ولید ؓ کے پاس زہر کا پیالہ لے کر آیا اور کہا اگر آپ اس زہر کو پی کر سہی سلامت زندہ رہیں تو ہم جان لیں گے کہ آپ کا دین سچا دین ہے ۔آپ نے بسم اللہ پڑھ کر یہ زہر پی لیا تو خدا کے فضل سے کچھ بھی نہ ہوا۔ہرکام میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا پڑھ لینا آپ کوہر پریشانی سے بچائے گا۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.