رات کو کیلا اُبال کر کھانے کا کیا فائدہ ہے ؟

کچھ لوگ نیند کے لئے خواب آور ادویات کاسہارا لینے لگتے ہیں

جس کے سائیڈ ایفکٹس کی وجہ سے ہم جسمانی طور پر مزید پیچیدگیوں کا شک۔ار ہوجاتے ہیں لیکن ماہرین صحت کاکہنا ہے کہ ایسی مشکل کے لئے کیلوں والی چائے کا استعمال کریں۔اس کے کوئی سائیڈ افیکٹس بھی نہیں اور اس کے استعمال سے آپ کوپرسکون نیند بھی آنے لگی گی۔کیلوں میں پوٹاشیم اور میگنیشیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔

اور ان دونوں دھاتوں کی وجہ سے ہمیں پرسکون نیند آنے لگتی ہے۔ان کی وجہ سے ہمارے پٹھے بھی مضبوط ہوتے ہیں اور ان میں اکڑؤ اور کھچاؤبھی نہیں ہوتا۔ اگر انسان مستقل طور پر بے خوابی کا شک۔ار ہوجائے اور باوجود کوشش کے رات کوسونہ پارہا ہو بہت تکلیف رہنے لگتی ہے۔بے خوابی کی وجہ سے بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں اور ذیابیطس اور جسمانی کمزوری کا خط۔رہ بڑھ جاتا ہے اجزائ:ایک کیلا،ایک گلاس پانی ،2گرام دارچینی کیلے کو کاٹ کر پانی میں ڈالیں اور دس منٹ تک پانی کوابالی،مشروب کو چھان لیں۔اب اس پردارچینی چھڑک دیں اور رات کوسونے سے ایک گھنٹہ پہلے کیلے والی چائے نوش فرمائیں۔اس مشروب کوروزانہ استعمال کرنے سے آپکو رات کوپرسکون نیند آئے گی۔اسکے علاوہ کیلوں کے چھلکوں کے بھی بہت سے فائدے ہیں۔

کیلے کے چھلکے میں پوٹاشیم کی وافر مقدار موجود ہے جو دانتوں کے پیلے پن کو دور کردیتی ہے،چھلکے کو گندے دانتوں پر رگڑا جائے تو فرق واصح طور پر سامنے آجاتا ہے.اس سے خارش کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے. کیلے کے چھلکے سے خارش کی بیماری کا علاج بھی ممکن ہے، متاثرہ شخص اگر اپنی خشک جلد پر چھلکے کو رگڑتا ہے تو اس سے جلد آئلی نارمل ہوجاتی ہے، چھلکے پر شہد لگا کر خارش زدہ جلد پر اسے رگڑیں تو جسم کی خارش کم ہوجاتی ہے اور اس عمل سے بیماری ختم بھی ہوجاتی ہے.یہ مسوں اور دانوں کے خلاف بھی موثر کام کرتا ہے. ہاتھوں پیروں یا جسم کے کسی بھی حصے پر مسّے (دانے) اندورنی وائرس پیدا ہونے کی وجہ سے نمودار ہوتے ہیں جن کا طویل علاج کیا جاتاہے تاہم کیلے کے چھلکے میں ایک ایسا پروٹین موجود ہے جو اس وائرس کو ختم کرنے میں بہت مدد دیتا ہےجبکہ کیل مہاسے اورچہرے کی چھائیوں سے پریشان نوجوانوں کیلئے بھی یہ بہترین چیز ہے. کیلے کے چھلکے کو آہستہ آہستہ منہ پر لگاکر ان جھائیوں اور جھریوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *