””آپ کے تمام مسائل کا حل صرف یا قھار ُ پانی میں اپنے پاؤں ڈبوئیں اور کمال دیکھیں““

یہ ایک ایسا وظیفہ ہے جو آپ کو ہر قسم کی پریشانی سے نکال دے گا آپ کا گھر جنات کا گھر بنا ہوا ہے گھر کا سامان آگے پیچھے کردیتے ہیں یا ڈرا دیتے ہیں سوتے ہوئے آپ کو جھٹکا لگتا ہے سوتے ہوئے آپ ڈر جاتے ہیں۔ جس گھر میں جنات وغیرہ ہوں آپ کو لگتا ہو کہ جب آپ رات کو اُٹھے گھر کے برتن ہل رہے ہیں لائٹ آن آف ہورہی ہے یا کسی قسم کے جنات وغیرہ آپکا سامان آگے پیچھے کردیتے ہیں اس لحاظ آپ یہ عمل کریں ۔

ایک کھلا برتن لے لیں اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ آپ کے پاؤں ٹخنوں تک پانی میں ڈوب جائیں کسی کرسی یا چارپائی پر بیٹھ کر اپنے دونوں پاؤں اس میں رکھ دیں یا قھارُ 2100بار پڑھیں۔پڑھنے کے بعد اپنے پاؤں اتنی احتیاط سے باہر نکالیں کہ پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پر یا گھر میں نہ گرے ۔ پاؤں کو کسی کپڑے سے صاف کریں جب پاؤں خشک ہوجائیں پھرنیچے رکھ دیں۔اس کے بعد جس کپڑے سے پاؤں صاف کیے وہ کپڑا کسی جگہ رکھیں بغیر باہر پھینک دیں اور پانی بھی گھر سے باہر گرادیں لیکن یہ کام سارا احتیاط سے کرنا ہے۔

کہ ایک قطرہ بھی گھر کے اندر نہ گرے سات دن یہ عمل لگاتار کرنا ہے جن کو آسیب ہے جادو ہے جنات ہے کالے جادو کا مسئلہ ہے ۔ کیونکہ کالے جادو کے ذریعے جنات بھیجے جاتے ہیں اور لوگوں پر مسلط کیے جاتے ہیں تاکہ وہ انہیں پریشان کریں انکی زندگیوں کو مشکل بنادیں۔ ایسا بھی سنا گیا کہ ایک نیا نویلا جوڑا جو بہت خوشحال تھا تو اس آدمی کی زوجہ پر کالا جادو کروادیا گیا اس کیوجہ سے وہ اتنی بیمار ہوگئی کہ ان کی نوبت طلاق تک جا پہنچی ہے ۔

کالا جادو اتنا خطرناک ہے جس میں جنات مسلط کردیئے جاتے ہیں آپ یہ عمل کریں انشاء اللہ آپ یہ آسیب کا مسئلہ ہے بچے اچانک سے بہت زیادہ پریشان کررہے ہیں تو سمجھ بچوں کو آسیب نے گھیر لیا ہے ۔ نوجوان لڑکیاں جو خوشبو لگا کر جب شام کے وقت باہر نکلتی ہیں تو آسیب وغیرہ جنات گزرتے گزرتے ان پر عاشق ہوجاتے ہیں وہ پیچھا نہیں چھوڑتے ۔یا قھارُ کا عمل بہت زبردست قسم کا عمل سات دن کے اندر اندر اس عمل کے کرنے سے جادو جنات سے چھٹکارا مل جائیگا۔

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا ہے، وہی بے حد رحمت فرمانے والا نہایت مہربان ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، (حقیقی) بادشاہ ہے، ہر عیب سے پاک ہے، ہر نقص سے سالم (اور سلامتی دینے والا) ہے، امن و امان دینے والا (اور معجزات کے ذریعے رسولوں کی تصدیق فرمانے والا) ہے، محافظ و نگہبان ہے، غلبہ و عزّت والا ہے۔

زبردست عظمت والا ہے، سلطنت و کبریائی والا ہے، اللہ ہر اُس چیز سے پاک ہے جسے وہ اُس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہی اللہ ہے جو پیدا فرمانے والا ہے، عدم سے وجود میں لانے والا (یعنی ایجاد فرمانے والا) ہے، صورت عطا فرمانے والا ہے۔ (الغرض) سب اچھے نام اسی کے ہیں، اس کے لیے وہ (سب) چیزیں تسبیح کرتی ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، اور وہ بڑی عزت والا ہے بڑی حکمت والا ہے۔

وَ ِلله الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْهُ بِهَا وَذَرُوا الَّذِيْنَ يُلْحِدُوْنَ فِيْ اَسْمَآئِهِ ط سَيُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا يَعْمَلُوْنَo(الاعراف، 7/ 180)اور اللہ ہی کے لیے اچھے اچھے نام ہیں، سو اسے ان ناموں سے پکارا کرو اور ایسے لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے ناموں میں حق سے اِنحراف کرتے ہیں، عنقریب انہیں ان (اَعمالِ بد) کی سزا دی جائے گی جن کا وہ ارتکاب کرتے ہیں۔قُلِ ادْعُوا اللهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَدًّامَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی.(الإسراء، 17/ 110)فرما دیجیے کہ اللہ کو پکارو یا رحمان کو پکارو، جس نام سے بھی پکارتے ہو (سب) اچھے نام اسی کے ہیں۔

اَللهُ لَا اِلٰهَ اِلاَّ هُوَ ط لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰیo(طٰه، 20/ 8)اللہ (اسی کا اسمِ ذات) ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں (گویا تم اسی کا اثبات کرو اور باقی سب جھوٹے معبودوں کی نفی کر دو) اس کے لیے (اور بھی) بہت خوبصورت نام ہیں (جو اس کی حسین و جمیل صفات کا پتہ دیتے ہیں)هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَج عٰلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ج هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُo هُوَ اللهُ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ج اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ ط سُبْحٰنَ اللهِ عَمَّا يُشْرِکُوْنَo هُوَ اللهُ الْخَالِقُ الْبَارِء الْمُصَوِّرُ لَهُ الْاَسْمَاءُ الْحُسْنٰی ط يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ج وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَکِيْمُo(الحشر، 59/ 22-24)۔

وَاذْکُرِ اسْمَ رَبِّکَ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًاo وَمِنَ الَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيْلًاo(الدهر، 76/ 25-26)اور صبح و شام اپنے رب کے نام کا ذکر کیا کریں۔ اور رات کی کچھ گھڑیاں اس کے حضور سجدہ ریزی کیا کریں اور رات کے (بقیہ) طویل حصہ میں اس کی تسبیح کیا کریں۔قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَکیّٰo وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلّٰیo(الاعلٰی، 87/ 14-15)بے شک وہی بامراد ہوا جو (نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے) پاک ہوگیا۔ اور وہ اپنے رب کے نام کا ذکر کرتا رہا اور (کثرت و پابندی سے) نماز پڑھتا رہا۔

وَ ِللهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ فَاَيْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ ط اِنَّ اللهَ وَاسِعٌ عَلِيْمٌo(البقرة، 2/ 115)اور مشرق و مغرب (سب) اللہ ہی کا ہے، پس تم جدھر بھی رخ کرو ادھر ہی اللہ کی توجہ ہے (یعنی ہر سمت ہی اللہ کی ذات جلوہ گر ہے)، بے شک اللہ بڑی وسعت والا سب کچھ جاننے والا ہے۔بَدِيْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاِذَا قَضٰی اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهُ کُنْ فَيَکُوْنُo(البقرة، 2/ 117)وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز (کے ایجاد) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ ’تو ہو جا‘ پس وہ ہو جاتی ہے۔

اِنَّ اللهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوْفٌ رَّحِيْمٌo(البقرة، 2/ 143)بے شک اللہ لوگوں پر بڑی شفقت فرمانے والا مہربان ہے۔اِلاَّ الَّذِيْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْا وَبَيَنُوْا فَاُولٰـئِکَ اَتُوْبُ عَلَيْهِمْ ج وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِيْمُo(البقرة، 2/ 160)مگر جو لوگ توبہ کر لیں اور (اپنی) اصلاح کر لیں اور (حق کو) ظاہر کر دیں تو میں (بھی) انہیں معاف فرما دوں گا۔

اور میں بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں۔اَللهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَج الْحَيُ الْقَيُوْمُ ج لَا تَاْخُذُهُ سِنَةٌ وَّلَا نَوْمٌ ط لَهُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهُ اِلَّا بِاِذْنِهِ ط يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ج وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِشَيْئٍ مِّنْ عِلْمِهِ اِلَّا بِمَا شَآءَ ج وَسِعَ کُرْسِيُهُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلَا يَؤُوْدُهُ حِفْظُهُمَا ج وَهُوَ الْعَلِيُ الْعَظِيْمُo(البقرة، 2/ 255)اللہ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔

کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے، اس کی کرسئ (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *