نسوں میں تنگی اور بلاکیج کا گھریلو علاج

نسوں میں ہونیوالی بلاک۔یج کیوجہ سے کئی طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا ہوتے ہیں جو کسی شخص کیلئے تکلیف کا باعث ہوسکتے ہیں آج آپ کو بتائیں گے کہ نسوں میں بلاک۔یج کا مسئلہ کیوں پیدا ہوتا ہے کن لوگوں کو اس مرض کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کے علاج کیلئے بہت ہی آسان گھریلو نسخے آپ کو بتائیں گے ۔جب ٹانگوں پنڈلیوں کی نسوں میں بلاکیج کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے ۔ایسے میں پیروں یا ٹانگوں کی نسیں نیلے رنگ اور ابھر ی ہوئی عام طور پر گچھوں کی شکل میں دکھائی دیتی ہیں ۔ اس کیوجہ سے اکثر پاؤں سن ہوجاتے ہیں ٹانگوں اور پنڈلیوں میں جک۔ڑن محسوس ہوتی ہے ۔ چلنے پھرنے اور حرکت کرنے میں پریشانی ہوتی ہے زیادہ دیر کھڑے رہنا مشکل ہوتا ہے ۔اس کے اسباب کی بات کریں تو آپ اچھی طرح سے جانتے ہیں ہمار ا دل ہمارے جسم کی تمام نسوں میں خ و ن پمپ کرتا ہے۔اگر کسی وجہ سے وال کمزور ہوجاتے ہیں نسوں میں آنیوالا خ و ن مکمل طور پر واپس نہیں آتا اس کا کچھ حصہ نسوں میں اکٹھا ہونے لگتا ہے اس کیوجہ سے نسوں میں بلاک۔ی۔ج س۔وج۔ن اور ور۔م پیدا ہوتا ہے ۔ نسیں پھولی ہوئی دکھائی دیتی ہیں وقت گزرنے کیساتھ درد ہونے لگتا ہے ۔ اس مرض کے علاج کیلئے لہسن کو اپنی خوراک میں شامل کریں روزانہ پکائے جانے والے کھانوں میں لہسن کا استعمال ضرور کریں۔کیونکہ لہسن بلڈ سرکولیشن کو بہتر بناتا ہے ۔یہ نہ صرف نسوں کی تنگی اور بلاکیج کو دور کرتا ہے بلکہ نسوں میں ہوچکی سوج۔ن اور ور۔م کو تحلیل کرتا ہے ۔نسوں کی کمزوری کا بہترین غذائی علاج ہے یہی وجہ ہے کہ کولیسٹرول کی زیادتی اور ہائی بلڈپریشر کیلئے بکثرت استعمال لایا جاتا ہے اس کے علاوہ فائبر سے بھرپور غذائیں اپنی غذا میں شامل کرنی چاہیے ۔قبض کی شکایت نہیں ہونی چاہیے قبض کیوجہ سے اس مرض میں زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں ۔

اسی لیے پینے کیلئے نیم گرم پانی کا استعمال کریں یہ نہ صرف آپ کے پھی۔پھڑوں معدہ اور آنتوں کو ڈی ٹاکس کرتا ہے یہ شریانوں کی تنگی کو دور کرتا ہے اور خ و ن میں سے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے۔اس کے علاوہ زیتون کے تیل سے مالش کرنا بلڈ فلو کو بہتر بناتا ہے اس سے مالش کرنا درد اور س۔وج۔ن کو کم کرتا ہے تھکان کھنچاؤ سے نجات دلاتا ہے اس کے لیے روزانہ رات کو سونے سے پہلے زیتون کے تیل کو ہلکاد گرم کرکے پاؤں اور ٹانگ۔وں پر ہلکے ہاتھوں سے مالش کیا کریں۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *