ایک انسان کو آخر کتنی دفعہ معاف کیا جائے ؟

اگر کسی کی تمنا یہ ہو کہ میرا اسلام خوبصورت بن جائے اسے معاف کرنے کی صلاحیت اپنے اندر پیدا کرنی چاہئے عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اللہ کے محبوب ﷺ خادم کمی کوتاہی کرتا ہے کتنی مرتبہ معاف کریں آپ خاموش رہے اس نے پھر سوال کیا آپﷺ پھر خاموش رہے

پھر تیسری مرتبہ سوال کیا آپ ﷺ نے فرمایا اگر ایک دن میں ستر مرتبہ بھی اس سے کوتاہی ہو تو تم معاف کرنا رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ستر مرتبہ درگزر کرو ایک مرتبہ میں اور آپ مل کر ذرا سوچیں ہم نے زندگی میں کبھی کسی کو ستر مرتبہ ساری معافیاں جمع کی جائیں تو کیا ہوگا کسی کو معاف یہاں ایک دن میں خدمت گزار اگر کوتاہی کرے تو ستر مرتبہ معاف کرنے کا حکم فرمایا گیا ہے ۔کسی کی جسمانی طاقت کو اپنے آرام واسائش یا راحت ومسرت کے لیے استعمال کرنے کی خواہش ہی غلامی کی بنیاد ہے۔یہ خواہش اتنی ہی قدیم ہے جتنی فطرت انسانی۔ اس کے آثار ہر زمانے اور ہر قوم میں پائے گئے ہیں۔اس کا بیج اس وقت پڑا جب انسانی معاشرہ وحشت کے مرحلے میں تھا اور اس وقت بھی پھلتا پھولتا رہا جب مادی تہذیب کی ترقی نے اس کی ضرورت کو رفع کردیا۔یہ رجحان نہ صرف جنگی قیدیوں کے ساتھ خاص تھا ،بلکہ کبھی کبھی طاقت ور قبیلہ اپنے سے کمزور قبیلہ کو ذاتی مفاد اور داد عیش کے لیے غلام بنا لیتا تھا۔ راہ گیروں اور مسافروں کو بھی غلام بنائے جانے کی شہادت ملتی ہے۔غربت وافلاس کے باعث والدین اپنی اولادکو فروخت کردیتے تھے،

اس کے نتیجے میں وہ غلام بن جاتا تھا۔ایک مرتبہ کسی کی گردن میں غلامی کا طوق پڑگیا تو پھر وہ کبھی اس سے آزاد نہیں ہوسکتا تھا۔اگر کوئی اس سے آزاد ہونے کی کوشش بھی کرتا تو اسے اتنے سخت قوانین اور کٹھن مرحلوں سے گزرنا پڑتا کہ وہ اسی میں دب کر رہ جاتا۔انہیں کھاناتو ملتا تھا ،مگر اتنا کہ اس کا رشتہ جسم وروح سے برقرار رہ سکے ، یہ غلام اور لونڈیاں چاہے زمینوں کے کمیرے ہوں ، چاہے گھروں کے خدمت گزار ،ان سے نفرت کی جاتی تھی اور انہیں بازاروں میں بیچا جاتا تھا۔معمولی سی لغزش پر انہیں سخت سے سخت سزادی جاتی تھی۔تمام تمدنی اور معاشرتی حقو ق سے وہ محروم تھے ۔سماجی زندگی میں بھی ان کا کوئی حصہ نہ تھا۔ روم سمیت دنیا کے دوسرے تما م ملکوں کے غلام بھی مظلومی اور بے بسی کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔کہیں زیادہ تو کہیں ذراہلکے اور نسبتا کم گھناوٴنے رویے کا شکار تھے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.