حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: جو بھی چلتا پھرتا یہ ایک عمل کرے تو ایک دن میں نصیب بدل جائے گا۔

اس عمل کے حوالے سے ایک حدیث مبارکہ ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے جو تم میں سے عاجز ہو کر راتوں کو محنت کرنے سے اور بخل کی وجہ سے مال بھی نہ خرچ کیا جاتا ہو یعنی نفلی صدقات اور بزدلی کی وجہ سے جہاد میں بھی شرکت نہ کرسکتا ہو تو اس کو چاہئے کہ اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرے حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ جب بھی آپ اندر جاتے ہیں باہر آتے ہیں کھڑے ہوتے ہیں یا بیٹھتے ہیں تو فرشتے آپ کے لئے دعا کرتے ہیں ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اگر تمہارا دل چاہے تمہارے لئے بھی وہ دعا کرسکتے ہیں تو آپ نے یہ آیت پڑھی یا ایھاالذین آمنو اذکرواللہ ذکرا کثیرا آپ نے یہ آیت پڑھ کر کہا کہ اس میں اسی کی طرف اشارہ ہے کہ حق تعالیٰ شانہ کی رحمت اور ملائکہ کی دعائیں تمہارے ساتھ ہوتی ہیں جو اللہ کے ذکر میں مشغول ہوجاتا ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ آپ اگر کچھ بھی نہ کر سکتے ہوں اور آپ چاہتے ہو ں کہ آپ کی زندگی میں بدلاؤ آئے تبدیلی آئے تو آپ نے اللہ کا ذکر کرنا ہے وہ ذکر کوئی بھی ہوسکتا ہے کوئی ایک ذکر متعین نہیں کیاجاسکتا

آپ چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے لا الہ الا اللہ پڑھ سکتے ہیں سبحان اللہ پڑھ سکتے ہیں اللہ اکبر پڑھ سکتے ہیں کوئی بھی اللہ کا ذکر آپ کر سکتے ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کا ذکر ایسے کثرت سے کیاکرو کہ لوگ تمہیں مجنون کہنے لگیں ہر وقت اٹھتے بیٹھتے چلتے پھر تے اللہ کا ذکر آپ نے کرنا ہے اللہ کا ذکر کرنے سے منافقوں یا بے وقوفوں کا مجنوں کہنا اس سے بڑی کوئی دولت ہی نہیں ہے آپ کے لئے ۔قرآن پا ک میں ارشادِ ربانی ہے : اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہوo پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤ

۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی(اپنے شایان شان) خفیہ اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *