”8 غذاہیں خالی پیٹ کبھی نہ کھاہیں“

آپ کا کھانا آپ کی صحت ہے لیکن کھانے سے پہلے کیا کھایا جائے اس کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے ۔ آج ہم کچھ اس

چیزوں کے بارے میں بتائیں گے جن کا استعمال خالی پیٹ نہایت نقصان دہ ثابت ہوتا ہخالی پیٹ دوائیاں کھان

ایسپرین ، پیراسٹامول اور اس طرح کی دوسری ادویات کا استعمال کبھی بھی خالی پیٹ نہیں کرنی چاہیے ۔ اس سے نا صرف ادویات کا اثر کم ہوتا ہےبلکہاس کے صحت پر مضر اثرات واقع ہوتے ہیں

اگر ان کا استعمال خالی پیٹ کرنا بھی ہو تو پانی کی جگہ اس کا استعمال دودھ کے ساتھ کیا جائے اس کے ذریعے سے مضر اثرات دور کئے جا سکتے ہیں کافی کا استعمال

کافی کا خالی پیٹ استعمال معدہ کی بخارات اور سینہ کی جلن کا سبب بنتا ہے ۔ اس کے ساتھ اگر کافی کے بعد ناشتا ترک کیا جائے تو سستی اورتھکاوٹکاسامنا ہو سکتا ہے۔

اگر کافی کا استعمال ختم نہیں کیا جا سکتا تو کوشش کرے کہ آپ کافی کو دودھ یا کریم کے ساتھ پئے ۔ دودھ اس کے مضر اثرات کو کم کر دیتا ہے ۔چیو گم

خالی پیٹ گم چبانا معدہ کے لئے تباہ کن ہوتا ہے کیونکہ اس سے ہاضمہ بہتر بنانے والے مادے کا اخراج ہوتا ہے اگر معدہ خالی ہو تو اس سے معدہ پر برا اثر پڑتا ہے اور تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو شخص اس بد عادت کا عادی ہو وہ پھلوں اور خالص غذاؤں کی جگہ فاسٹ فوڈ کو ترجیح دیتا ہے ۔

چیونگم میں قدرتی مٹھاس کا مادہ ہوتا ہے جو دوسری مٹھاس کے مقابلہ میں زیادہ بہتر ہے ۔ احتیاطا کم سے کم 10 منٹ کے لئے اس کا استعمال ترک کریں ۔بھوک کے ساتھ بستر پر جانا

بھوک اور گلوکوز کی کمی ایک اچھی نیند میں حائل ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ سے بار بار جاگنا اور جلدی آنکھ کا کھلتی ہے ، اور حیرت کی بات ہے کہ اسسے بھوک مزید بڑھ جاتی ہے ۔

اسی جوس کا استعمال جس میں تیزایبت ہو چاہئے وہ قدرتی ہو یا آرٹیفشل دونوں کا استعمال خالی پیٹ معدہ کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے پیٹ میں تبخیر یا تیزابیت کا مسئلہ ہو جاتا ہ

اور ان لوگوں کے لئے زیادہ خطرناک ہے جن کو پہلے سے اس مسئلہ کا سامنا ہو ۔ اس لئے تازہ خالص جوس کا استعمال پانی کے ساتھ کریںبحث

تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بھوک سے بحث کرنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے کیونکہ اس کے لئے جسم میں توانائی کا ہونا ضروری ہے ۔ اور خالی پ کبھی توانائی نہیں ملتی ۔اس لئے اگر کبھی خالی پیٹ ڈسکشن کرنی بھی ہو تو کم از کم 2 گلاس پانی پیا جائے یا کچھ گرم دودھ پیا جا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.