خربوزہ پتھر ی اور گردے کے مریضوں کے ساتھ کیا کرتا ہے؟

گرمیوں کاموسم آگیا ہے اور گرمیوں کے موسم میں خربوزہ ، تربوز اور آم یہ تین پھل کافی مقدار میں اور انتہائی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔

ان کے فوائد بھی بے بہا ہیں ۔ طب نبوی ﷺ سے اس کا فائدہ بھی بتائیں گے

کہ آقا ﷺ نے خربوزے کے بارے میں کیا فرمایا۔ اور اس ک سائنس اور طب میں کیا فوائد ہیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا کھانے سے پہلے خربوزے کے استعمال پیٹ کو بالکل صا ف کردیتا ہے ۔اور بیماریوں کو ج۔ڑ سے ختم کردیتا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضو ر اقد س ﷺ کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ طب میں خربوزے کے کیا فوائد ہیں؟ موسم گرما میں پیدا ہونے والا خربوزہ انسانی جسم کی نشوونما کے لیے ازحد ضروری ہے۔ خربوزے میں بے شمار غذائیت ہوتی ہے۔

آدھا کلو خربوزے میں دو روٹیوں کے برابر غذائیت ہوتی ہے۔ طب کے ماہرین نے کہا ہے کہ خربوزے کے سوگرام گودے میں چھبیس تا اکتالیس توانائی کے حرارے ، ستاسی تا بیانوے گرام پانی ، 0.6تا1.0گرام لحمیات ، 0.1گرام چربی، 10.3گرام کاربوہائیڈریٹ ، بیالس سو یونٹ وٹامن اے ، 0.08ملی گرام وٹامن بی، 10.5گرام کیلشیم ، 0.2تا چار گرام آئرن، چار تا بارہ ملی گرام میگنشیم اور سا ت تا انتالیس فاسفورس موجود ہوتاہے۔اس میں گ۔و شت بنانے والے روغنی اور نشاستہ دار اجزاء پائے جاتے ہیں۔ اس میں حیاتین یعنی وٹامن سی بھی وافر مقدار میں موجود ہوتاہے۔

جو جسم مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انسان کو تپش سے محفوظ رکھتا ہے۔ پوٹاشیم ، کیلشیم ، فاسفورس، کیروٹین، تانبا، گلوکوز اور حیا تین یعنی وٹامن اے اور بی بھی اس کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہیں۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں واضح ہے۔ کہ خالی پیٹ کھانےسے اس کی افادیت بڑھ جاتی ہے۔ اور یہ نبی کریم ﷺکا فرمان ہے۔ جس میں شک کی گ۔نجائش نہیں نکلتی۔ تو اس کو افطار میں کھلانا بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوگا۔ خاص کر ان لوگوں کے لیے جن کو معدے کے مسائل ہوں یا قبض رہتی ہو۔ ایسے لوگوں کو اس کو افطاری میں ضرور کھانا چاہیے ۔

ترمذی میں ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضور اقدس ﷺ کو خربوزہ اور کھجور اکٹھے کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔کہ آپ ﷺ نے فرمایاکہ : تربوز اور کھجور کو ملا کرکھانےسےایک دوسرے کی سرد اور گرم تاثیر کو مار دیتے ہیں ۔ اسی لیے خربوزے کےساتھ اگر کھجور کھا لی جائے تویہ نقصان کا باعث نہیں بنتے ۔ اور ہمارے افطاری کے دسترخوانوں پر کھجور لازمی موجود ہوتی ہے۔

کھجور اور خربوزہ ملا کر کھائیں۔ ایک تو نبی کریمﷺ کی سنت پوری ہوگی۔ اور دوسرا نقص۔ان کا اندیشہ نہیں ر ہے گا۔ اس کے بارے میں جدید طبی ماہرین بھی بتاتے ہیں کہ جیسا کہ اس میں بہت سے غذائی اجزاء ہوتے ہیں۔ کمزوری میں خربوزہ کھانےسے وزن بڑھتا ہے۔ اور تازہ دم بھی رکھتا ہے۔ طبی لحاظ اس میں پیش۔اب زیادہ لانے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لیے گردوں کے مریضوں کے لیے بہت مفید ثابت ہوتاہے۔

پیش۔اب لانے کی وجہ سے جسم سے خ ون کے خراب مادوں کے علاوہ گردوں اور مثانے سے پت۔ھری نکالتا ہے۔ خربوزوں کے چھل۔کوں کو عرق گلا ب میں پیس کر اس کو چہرے پر لیپ کرنے سے رنگ صاف ہوتا ہے ۔اس کے بیج بھی مفید ہوتے ہیں ۔اس کے استعمال سے گردے ،مثانے اور آنتیں صاف ہوتے ہیں ۔ ان کو کھانے سے گلے کی خراش اور کھانسی بھی دور ہوتی ہے۔ بیجوں کے مغز کے استعمال سے دماغ کو بھی طاقت ملتی ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *