سورۃ بقرہ کی 2 آیات پڑھنے کا معجزہ دیکھیں فرشتہ رزق لے کر اُسی وقت گھر آجاتا ہے۔

بے شک اللہ تعالیٰ ہی رزق دینے والا اور سب سے بہترین رازق ہے اور زمین پر جتنے بھی چلنے پھرنے والے ہیں ان سب کی روزیاں اللہ تعالیٰ کے ذمے ہیں سب کو رزق اللہ تعالیٰ ہی دیتا ہے اور یقینا کسی لالچی کا لالچ اللہ تعالیٰ کے رزق کو زیادہ نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی ناپسند کرنے والے کی ناپسندیدگی اسے ہٹاسکتی ہے اور یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے رزق کے معاملے میں لوگوں میں فرق رکھا ہے تووہ جسے چاہے زیادہ رزق عطافرمادے جسے چاہے کم رزق عطافرمادے وہی مالک ہے وہی خالق ہے وہی ایک قوم کے رزق میں کشادگی کردیتا ہے تو دوسری قوم کے رزق میں تنگی فرمادیتا ہے یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے انسان کچھ بھی نہیں کرسکتا سوائے دعا کرنے سے سوائے اللہ پاک سے مانگنے کے ایک حدیث قدسی میں اللہ کے رسول ﷺ کافرمان ہے جو چیز تجھے جنت کے قریب کرسکتی ہے اس کا میں نے تجھے حکم دے دیا ہے اور جو چیز تجھے جہنم کے قریب کرسکتی ہے

اس سے میں نے روک دیا ہے یقینا حضرت جبرائیلؑ نے میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک فوت نہیں ہوسکتی کوئی بھی انسان اس وقت تک اس دنیا سے نہیں جاسکتا جب تک کہ وہ اپنی روزی پوری نہ کرلے اور سارا رزق کھا نہ لے توتم اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے روزی کا حصول اچھی طرح کرو اور تم میں سے کسی کو روزی کا لیٹ اور کم ہوجانا اس بات پر ناابھارے کہ تم اللہ کی نافرمانی کر کے روزی حاصل کرنے لگ جاؤ کیونکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے اکثر آپ لوگوں نے دیکھا ہوگا کہ اللہ پاک نے ہمیں صبر کرنے کا حکم دیا ہے جب ہمیں مشکلات پیش آتی ہیں رزق کی تنگی ہوتی ہے تو ہم گلے شکوے کرنا شروع کردیتے ہیں پھر ہم ناجائز کاموں میں پڑ جاتے ہیں اور حرام اور حلال کو بھول جاتے ہیں اللہ پاک نے اس چیز سے منع فرمایا ہے یا د رکھیں رزق صرف وہی اچھا ہے وہی فضیلت والا ہے وہی انسان کے لئے فائدہ مند ہے جس کو استعمال کرنے سے دنیا بھی آسان ہوجائے اور آخرت بھی آسان ہوجائے رزق کی کمی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ انسان کے خرچ نہ کرنے کی وجہ سے ہوتی ہے

اللہ پاک ساری مخلوق کے لئے اس کی ضرورت کے مطابق پورے سال کا رزق نازل فرمادیتا ہے ہمیں چاہئے کہ اگر ہم اپنےر زق میں برکت اور ترقی چاہتے ہیں تو غریبوں میں مسکینوں میں زیادہ سے زیادہ اللہ پاک کا دیا ہوا رزق خرچ کیا کریں تا کہ اللہ ہمارے رزق کو اور بڑھا دے مزید بڑھا دے جیسا کہ اللہ پاک نے فرمایا ہے اور جب ان سے کہاجاتا ہے کہ جو رزق خدا نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو تو کافر مومنوں سے کہتے ہیں کہ بھلا ہم ان لوگوں کو کھانا کھلائیں جن کو اگر خدا چاہتا تو خود کھلا دیتا تو پھراللہ پاک فرماتے ہیں کہ تم تو صاف صاف غلطی پر ہو ایک کسان کو دیکھ لیجئے وہ ایک بوری بیج کی کھیت میں بوتا ہے اور فصل اگ جانے پر وہ ایک بوری کی جگہ ستر بوریاں لے کر گھر واپس لوٹ جاتا ہے محنت کرتا ہے لیکن اگر وہ کسان یہ سوچنا شروع کردے کہ میں یہ ایک بوری کا بیج کھیت میں پھینک دوں گا اور پتہ نہیں مجھے ملے گا کہ نہیں تو پھر وہ اس کے کمزور ایمان کی نشانی ہے ۔اسی طرح جب ہم غریبوں میں مسکینوں میں تقسیم کریں گے تو اللہ پاک ایک روپے کا اجر ستر گنا زیادہ بڑھا کردیتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.