عید الفطر کے دن کا خاص وظیفہ

جو شخص عید کے دن تین سو 300 مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھے اور فوت شدہ مسلمانوں کی ارواح کو اس کا ایصال ثواب کرے تو ہر مسلمان کی قبر میں ایک ہزار انوار داخل ہوتے ہیں اور جب وہ پڑھنے والا خود فوت ہو گا اللّٰہ تعالیٰ اسکی قبر میں بھی ایک ہزار انوار داخل فرمائیگا فطرانہ واجب ھے سرکار مدینہ منورہ صاحب معطر پسینہ فیض گنجینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا کہ جا کر مکہ مکرمہ کے گلی کوچوں میں اعلان کر دو صدقہ فطر واجب ھے صدقہ فطر لغو باتوں کا کفارہ ھے حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مدنی سرکار غریبوں کے غمخوار صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر مقرر فرمایا تاکہ فضول اور بیہودہ کلام سے روزوں کی طہارت (یعنی صفائی) ھو جائے نیز مساکین کی خوراک بھی ھو جائے روزہ معلق رہتا ھے حضرت سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : سرکار نامدار مدینے کے تاجدار باذن پروردگار دو عالم کے مالک و مختار شہنشاہ ابرار صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں

جب تک صدقہ فطر ادا نہیں کیا جاتا بندے کا روزہ زمین و آسمان کے درمیان معلق ( یعنی لٹکا ہوا رکا ) رہتا ھے صدقہ فطر واجب ہونے کیلئے عاقل و بالغ ہونا شرط نہیں بلکہ بچہ یا مجنون یعنی پاگل بھی اگر صاحب نصاب ھو تو اس کے مال میں سے اسکا ولی (سر پرست) ادا کرےبیوی یا بالغ اولاد جن کا نفقہ وغیرہ ( یعنی روٹی کپڑے وغیرہ کا خرچ) جس شخص کے ذمے ھے وہ اگر ان کی اجازت کے بغیر ہی انکا فطرہ ادا کر دے تو ادا ہو جائے گا ہاں ! اگر نفقہ اس کے ذمے نہیں ہے مثلاً بالغ بیٹے نے شادی کر کے گھر الگ بسا لیا اور اپنا گزارہ خود ہی کر لیتا ہے تو اب اپنے نان نفقہ (یعنی روٹی کپڑے وغیرہ) کا خود ہی ذمہ دار ھو گیا ہے لہذا ایسی اولاد کی طرف سے بغیر اجازت فطرہ دے دیا تو ادا نہ ھوگا بیوی نے شوہر کے حکم کے بغیر اپنے شوہر کا فطرہ ادا کر دیا تو ادا نہ ھوگا

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.