”نبی کا حضرت فاطمہ ؓ کو بتا یا ہوا عمل ۔“

رسول اللہ ﷺ نے فر ما یا کہ یہ مہینہ رمضان کا تم کو ملا ہے اس میں ایک رات ہے جو ایک ہزار مہینوں سے بھی بہتر ہے۔ جو اس سے محروم رہا گو یا کہ وہ تمام خیر سے محروم رہا۔ اور اس کی خیرو بر کت سے کوئی ایسا انسان ہی ہو گا جو محروم رہ سکے گا اس رات کو تلاش کر نا لازم ہے کوشش تو کی جا سکتی ہے تو اسی لحاظ آج ہم اپنے دیکھنے والوں کو ماہِ رمضان کی ستائیسویں رات کا مجرب عمل بتانے جا رہے ہیں اور شبِ قدر کی اس مبارک رات کے حوالے سے آپ کو ان تمام باتوں سے بھی آگاہ کر یں گے جن کے بارے میں آج سے پہلے آپ لا علم تھے ۔

اس سے پہلے کہ اس کا آغاز کیا جا ئے آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ اس سے آپ کو بہت ہی زیادہ فائدہ حاصل ہو سکے آپ کو۔ عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور پاک ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ جس نے رمضان المبارک کی ستائیسویں رات صبح ہونے تک عبادت میں گزار دی وہ مجھے رمضان المبارک کی تمام راتوں کی عبادت سے زیادہ پسند ہے حضرت فاطمہ ؓ نے عرض کیا کہ ابا جان! وہ ضعیف مرد اور عورتیں کیا کر یں جو قیام پر قدرت نہیں رکھتے تو آپ ﷺ نے فر ما یا کہ کیا وہ تکیے نہیں رکھ سکتے جن کا سہارا لیں اور اس رات کے لمحات میں کچھ لمحات بیٹھ کر گزار لیں اور اللہ سے دعا مانگیں لیکن یہ بات اپنی اُمت کو تمام رمضان میں قیام میں گزارنے سے زیادہ محبوب ہے

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ِ پاک ﷺ نے فر ما یا کہ جس نے شبِ قدر جاگ کر گزاری وہ اس میں دو رکعت نفل نماز ادا کیے تو اللہ رب العزت نے اسے اپنی رحمت میں جگہ عطا فر ما دی اور جبرائیل ؑ اس پر اپنے پر پھیرتے ہیں رمضان المبارک کی ستائیسویں رات کو جو کوئی دو رکعت نماز نفل اس طرح سے پڑھے گا کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سات سات مر تبہ سورۃ اخلاص پڑھے نماز سے فارغ ہونے کے بعد ستر مر تبہ استغفار کی تسبیح پڑھے انشاء اللہ اس کے ماں باپ اور اس کے گ ن ا ہ وں کی بخشش ہو جا ئے گی۔

پروردگارِ عالم اس کے والدین کی مغفرت فر ما دیں گے۔ اور انہیں جنت میں اعلیٰ مقام عطا فر ما دیا جا تا ہے اس کے علاوہ اس نماز کے پڑھنے والے کو نیکی کے کام کرنے کی بھی توفیق عطا فر ما دی جا تی ہے جو کوئی ستائیسویں شب چار رکعت نماز نفل اس طرح سے پڑھے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد تین تین مر تبہ سورۃ القدر اور پچاس مر تبہ سورۃ الخلاص پڑھے اور پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہو کر نہایت ہی یکسوئی کے ساتھ دعا مانگے۔ جو بھی جائز حاجت ہو گی انشاء اللہ اللہ رب العزت پوری فر ما دیں گے

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.