منگل کے دن کا خاص الخاص وظیفہ

معزز سامعین  میں آج آپ کو منگل کے دن کا ایک پاور فل ، پر اثر ، اور با کمال وظیفہ ہے۔ اس وظیفے کے بارے میں میں آپ کو بتاؤں گی۔ منگل کے دن کو ن سا ایسا ورد ہے جو کیا جائے تو ہمارے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا یا جو ایسے کام جو نہ کرنا ہمارے لیے نہ کرنا فائدہ مند ثابت ہو گا۔  منگل کا روز  امراض کا دور ہے۔ منگل کے دن اللہ تعالیٰ نے امراض کو پیدا کیا ۔ جیسے کہ حدیث ابن مسعود   میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نےمنگل کے دن امراض کو پیدا کیا اور منگل کے دن ابلیس کو زمین کی طرف اتارا گیا۔ اسی روز اللہ تعالیٰ نے  جہنم کو پیدا کیا اور اسی دن مالکولموت کو بنی آدم پر مسلط کیا ۔ اور منگل کے ہی دن قابیل نے حبیب کو قتل کیا۔

اور اسی روز سیدنا حضرت موسی ؑ اور حضرت ہارون ؑ نے وفات پائی ۔ اسی روز میں سے سیدنا ایوب ؑ مرض میں مبتلا ہوئے تھے۔ یعنی کہ منگل کا دن بلاؤں کا دن ہے۔ اللہ نے منگل کے دن میں بلاؤں کو اتارا۔ منگل کا دن خون کا دن بھی کہلا تا ہے۔ کہ اس دن خون جوش میں ہوتا ہے اور اس دن میں ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ اگر اس میں کو ئی ہجامہ کروائے تو خون بند نہیں ہوتا اور بعض اوقات آ دمی مر جاتا  ہے۔ ابنِ جلیل   نے فر ما تے ہیں کہ زبیر نے فر ما یا کہ ہمارے علم میں ہے کہ تین لوگو ں  نے ہجامہ کر وا یا اور وہ لوگ مر گئے ۔ اور اس بات  کو اس لیے پو شیدہ نہیں رکھا گیا تا کہ لوگوں کو کسی بھی مسئلے کا سا منا نہ کر نا پڑ ے ۔ حدیث  میں ہے منگل کا روز خون کا دن ہے۔

اس دن میں ایک وقت ایسا ہے جس میں خون نہیں رکتا ۔ سید نا انس بن مالک  فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے منگل کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے یہ فر ما یا کہ  اونگھ کا دن ہے۔ صحابہ کرام   نے عرض کی کہ یارسول اللہ ﷺ  سے عرض کی کہ یہ کس طرح ۔ تو آپ  ﷺ نے فر ما یا ۔ اس لیے کہ منگل  کے روز حوا کو خون جاری ہوا اور آ دم ؑ کابیل نے اپنے بھائی ہاویل کو قتل کیا ۔ منگل کے دن کو ن سے ایسے نفافل ہیں جنہیں پڑھنے سے آ دمی فائدے میں رہتا ہے۔  تو اب میں آپ کو وظیفہ بتا تی چلوں کہ جمعہ کے دن جب آ فتاب بلند ہو تو منگل کے دن دس رکعت پڑھیں اور  ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۃ فاتحہ اور ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سو رۃ اخلاص پڑھتا ہے ۔ دس رکعت نفعل۔ دو دو کر کے ان کو پڑ ھنا ہے ۔ ہر رکعت میں جب سورۃ فاتحہ پڑ ھ لی جائےتو ایک مرتبہ آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورۃ اخلاص پڑ ھ لی جائے ۔ تو اس آدمی کو ستر دن اس کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ درج نہیں کیا جاتا اور اگر وہ آدمی ستر دن کے اندر مر جائے تو اس کا رتبہ شہید کا رتبہ عطا کیا جاتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.