اللہ کے کلمات کا ایسا ذکر جو ساتوں آسمانوں پر بھاری ہے

اللہ تعالیٰ کا ذکر اطمینان قلب اور راحت جاں کا سبب ہے ۔نبی کریم ﷺ نے بار بار ارشادات سے ذکر اللہ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے ۔ذیل میں سب سے پہلے ذکر کے معنی ،مفہوم بیان کیا جاتا ہے اور بعدہ ذکر کے بارے احادیث بیان کی جاتی ہیں تاکہ اہل ایمان احکامات نبوی پر عمل کر کے محافل ذکر کا اہتمام کریں۔ذکر الہٰی کا معنی و مفہوم:ذکر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معانی یاد کرنا ،یاد تازہ کرنا ،کسی شئے کو بار بار ذہن میں لانا ،کسی چیز کو دہرانا اور دل و زبان سے یاد کرنا ہیں۔امام راغب اصفہانی نے ذکر الہٰی کے درجہ ذیل معانی بیان کئے ہیں۔۱۔وحی ربانی ۔۲۔یاد دہانی ۔۳۔قصہ بیان کرنا ۔۴۔نصیحت۔۵۔نام پکارنا۔۶۔تذکرہ ذکر الہٰی یادِ الہٰی سے عبارت ہے :ذکر الہٰی کا مفہوم یہ ہے کہ بندہ ہر وقت اور ہر حالت میں ۔اٹھتے بیٹھتے اور لیٹتے اپنے معبود حقیقی کو یاد رکھے اور اس کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو۔صوفیاءکرام کے ہاں ذکر الہٰی کا مفہوم بہت بلند ہے ،سلطان العارفین حضرت سلطان باہو رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو دم غافل سو دم کافر سانوں مرشد اے پڑھایا ہو انسان کا ایک ایک سانس اللہ تعالیٰ کی یاد میں صرف ہو ،اس کا ایک لمحہ بھی غفلت کی نذر نہ ہو ورنہ کفر لازم آئے گا۔یہی سبق ہمیں مرشد کامل نے پڑھایا ہے۔حضور غوث الاعظم سیدنا عبد القادر جیلانی رحمة اللہ علیہ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ذکر کا مفہوم بیان فرماتے ہیں: اے سامعین ! تم اپنے اور خدا کے درمیان ذکر سے دروازہ کھول لو ،مردانِ خدا ہمیشہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں یہاں تک کہ ذکر الہٰی ان سے ان کے بوجھ کو دور کر دیتا ہے ۔ حاصل کلام یہ ہوا کہ ذکر یاد الہٰی کا وہ طریقہ ہے جس سے انسان کو اپنے خالق و مالک حقیقی کی معرفت اور پہچان نصیب ہوتی ہے ۔

ذکر الہٰی کی اہمیت و فضیلت :اس دورِ مادیت میں ہمارے احوالِ زندگی مجموعی طور پر بگاڑ کا شکار ہیں ۔ہماری روحیں بیمار اور دل زنگ آلود ہو چکے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق بندگی حقیقتاً معدوم ہو چکا ہے ۔ہمارے باطن کی دنیا کو حرص و ہوس،بغض و عناد ،کینہ و حسد ،فخر و مباہات ،عیش و عشرت و سہل پسندی ،خود غرضی و مفاد پرستی اور انا پرستی و دنیا پر ستی کی آلائشوں نے آلودہ کر رکھا ہے ۔لہٰذا ان بگڑے ہوئے احوال کو درست کرنے ،بیمار روحوں کو صحت یاب کرنے ،آئینہ دل کو شفاف کرنے ،قلب و باطن کو نور ایمان سے منور کرنے ،احوالِ حیات کو روحانی انقلاب کی مہک سے معمور کرنے اور محبو ب حقیقی سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ناگزیر ہے اور اس کا واحد ذریعہ ذکر الہٰی ہے ۔ذکر الہٰی ہر عبادت کی اصل ہے :تمام جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد عبادت الہٰی ہے اور تمام عبادات کا مقصودِ اصلی یادِ الہٰی ہے ۔کوئی عبادت اور کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور یاد سے خالی نہیں ۔سب سے پہلی فرض عبادت نماز کا بھی یہی مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر کو دوام حاصل ہو اور وہ ہمہ وقت جاری رہے ۔نفسانی خواہشات کو مقررہ وقت کے لئے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے ۔جس کا مقصد دل کو ذکر الہٰی کی طرف راغب کرنا ہے ۔روزہ نفس انسانی میں پاکیزگی پیدا کرتا ہے اور دل کی زمین کو ہموار کرتا ہے تاکہ اس میں یاد الہٰی کا ہی ظہور ہو ۔قرآن حکیم پڑھنا افضل ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور سارے کا سارا اسی کے ذکر سے بھرا ہوا ہے ،اس کی تلاوت اللہ تعالیٰ کے ذکر کو تر و تازہ رکھتی ہے ۔

معلوم ہوا کہ تمام عبادات کی اصل ذکرِ الہٰی ہے اور ہر عبادت کسی نہ کسی صورت میں یادِ الہٰی کا ذریعہ ہے ۔مردِ مومن کی یہ پہچان ہے کہ وہ جب بھی کوئی نیک عمل کرے تو اس کا مطمعِ نظر اور نصب العین فقط رضائے الہٰی کا حصول ہو ۔یوں ذکرِ الہٰی رضائے الہٰی کا زینہ قرار پاتا ہے ۔اس اہمیت کے پیش نظر قرآن و سنت میں جابجا ذکر الہٰی کی تاکید کی گئی ہے ۔کثرت ذکر محبت الہٰی کا اولین تقاضا ہے :انسانی فطرت ہے کہ وہ اس چیز کو ہمیشہ یاد کرتا ہے جس کے ساتھ اس کا لگاﺅ کی حدتک گہرا تعلق ہو ۔وہ کسی صورت میں بھی اسے بھلانے کے لئے تیار نہیں ہوتا ۔اہل محبت کے ہاں یہ عام قاعدہ ہے کہ جس شے سے محبت ہو اسے اٹھتے بیٹھتے یاد کیا جاتا ہے ۔محبوب جس قدر صاحب عظمت و شان اور حسن و جمال کا پیکر ہو گا محب کی زبان پر اسی قدر اس کا ذکر کثرت سے آئے گا ۔ایک مومنِ کامل کی دلی محبت ، مخلصانہ الفت اور جذباتی تعلق کا مرکز و محور صرف ذات باری تعالیٰ کا ذکر ہی ہو سکتا ہے اور جس بندے کو محبت الہٰی کی کیفیت نصیب ہو جائے اس کی دیوانگی اور اس کے جوش محبت کا عالم کیا ہو گا ؟اسے الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔حقیقت یہ ہے کہ جس کو بھی محبت الہٰی کے اس بحر بیکراں سے کوئی قطرہ نصیب ہو جائے اس کی نظر میں پوری دنیا کی نعمتیں پیچ ،بے اثر اور بے وقعت ہو جاتی ہیںاور وہ پوری دنیا اپنے محبوب کے نام پر قربان کر دیتا ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے محبین کی بنیادی شرط بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے ۔وَالَّذِینَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِلّٰہِ ۔ اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ (ہر ایک سے بڑھ کر ) اللہ سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے ہیں ۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.