ہرجائز خواہش کا انمول وظیفہ

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی تمام حاجات غیب سےپوری ہوں اور آپ کی تمام مشکلات غیب سے پوری ہوجائیں اور جملہ حاجات اور مقاصد کی تکمیل ہو تو آپ یہ وظیفہ کر لیجئے جس کے کرنے سے انشاء اللہ آپ کی تمام مشکلات تمام حاجات غیب سے پوری ہوں گی۔یا ارحم الراحمین انتہائی عظمت والا ذکر ہے اس کے ذریعے دعا مانگنے کی فضیلت ایک حدیث میں اس طرح مذکور ہے کہ آپﷺ نے فرمایا بے شک خدا تعالیٰ کاایک مقرر کیا ہوا فرشتہ اس شخص کے ساتھ ہوتا ہے جو یا ارحم الراحمین پڑھتا ہے

پس جو شخص ان کلمات کو تین بار پڑھتا ہے تو فرشتہ اس سے کہتا ہے بے شک ارحم الراحمین تیری طرف متوجہ ہوگیا ہے آپ مانگ جو مانگنا چاہتا ہے زید بن حارثہ ؓ کا ایک واقعہ ہے کہ انہوں نے طائف سے ایک آدمی سے خچر کرائے پر لیا خچر کے مالک نے کہا میں خود آپ کے ساتھ رہوں گا اور جہاں میر ا جی چاہے گا اتار دوں گا وہ انہیں لے کر ایک ج۔نگل کی جانب چلا گیا اور پھر بالکل ویرانے میں جا کر کہنے لگا۔یہاں اتر جائیے وہ اتر گئے تو دیکھا چاروں طرف لا۔ش۔یں ہی لا۔ش۔یں پڑی ہوئی ہیں اس نے ان کو ق۔ت۔ل کرنا چاہا توا نہوں نے فرمایا صرف دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دے ۔پھر ق ت ل کردینا اس نے کہا پڑھ لو آپ سے پہلے ان سب نے بھی نماز پڑھی تھی مگر ان کی نماز انہیں نہ بچا سکی لہٰذا تم بھی اپنی خواہش پوری کر لو حضرت زید بن حارثہ ؓ فرماتے ہیں جب میں نماز پڑھ چکا تو وہ مجھے ق۔ت۔ل کرنے کے لئے آگے بڑھا

میں نے بے ساختہ کہا یا ارحم الراحمین یہ کہتے ہیں ایک آواز اس نے سنی جو کہہ رہی تھی ۔انہیں ق۔ت۔ل کرنے سے باز آؤ وہ کانپ اٹھا کہ اس جنگل میں اس کے علاوہ کوئی بھی نہیں ہوتا یہ آواز کس کی ہے وہ ادھر ادھر دیکھنے کے لئے نکلا جب کچھ بھی نظر نہ آیا تو وہ پھر میرے قتل کے لئے آگے بڑھ پھر میں نے یہی کہا یا ارحم الراحمین تین مرتبہ میں نے یہ کلمہ پڑھا تو کیا دیکھتا ہوں ایک گھرسوا رسامنے کھڑا ہے اس کے ہاتھ میں ل۔وہے کی ایک بڑی سلاخ تھی۔ اس کے سرے پرا۔گ کا ایک شع۔لہ بلند ہورہا تھا اس نے آتے ہی اس ظ۔الم کو و ہ س۔لاخ گ۔ھونپ دی اور پلک جھپکتی دیر میں اسے ڈھ۔یر کر دیا پھر وہ گھ۔ڑ سوار مجھ سے مخاطب ہوا جب تم نے پہلی مرتبہ پکارا اس وقت میں ساتویں آسمان پر تھا پھر جب دوسری مرتبہ پکارا تو اس وقت میں پہلے آسمان پر پہنچ گیا اور تیسری پکار پر آپ کے سامنے تھا ۔اللہ رب العزت تمام خوبیوں کا مالک اور سارے جہان کا پالنہار ہے

اللہ غنی ہے جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تم سب محتاج ہو سارے بندے شاہ و گدا اللہ رب العزت کے محتاج ہیں زمین و آسمان کے سارے خزانے اللہ کے ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے تم فرمادو کہ فضل تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے جسے چاہے دے ہر شخص محتاج ہے انسان کی محتاجی اور فقیری کا تقاضا یہی ہے کہ بندہ اپنے رب سے اپنی حاجت و ضروریات کو مانگے اور اپنے کسی بھی عمل کے ذریعے اللہ رب العزت سے بے نیازی کا شائبہ بھی نہ ہونے دے کیونکہ یہ مقام عبدیت اور دعا کے منافی ہے انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ پریشانیوں میں اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے جیسا کہ اللہ کا ارشاد ہے جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کو پکارتا ہے اور دل سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا دعا عبادت کی روح اور اس کا مغز ہے رب تعالیٰ نے انبیاء کرام و صالحین اور اپنے بندوں کو نہ صرف دعا مانگنے کی تعلیم دی بلکہ دعا مانگنے کا طریقہ بھی بتایا اللہ نے بندوں کو حکم دیتے ہوئے فرمایا تمہارے پروردگار نے کہا کہ تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کرو۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.